کیا غم ہے جس کو چھپا رہے ہو: نذرِ کیفی اعظمی نتیجہ فکر احمد علی برقی اعظمی

دیا ادبی گروپ کے عالمی آنلاین فی البدیہہ فی البدیہہ طرحی مشاعرے بتاریخ ۹ جون ۲۰۱۷ کے لئے میری طبع آزمائی

احمد علی برقی اعظمی

تم آرہے ہو کہ جا رہے ہو
بتاؤ کیوں مُسکرا رہے ہو
یہ کیسا جلوہ دکھا رہےہو
نگاہ و دل میں سما رہے ہو
کرو گے کیا خاک خانۂ دل
نظر سے بجلی گرا رہے ہو
ملے گا کیا ایسا کرکے تم کو
کیوں مجھ کو ناحق ستا رہے ہو
ہے عارضی کر و فر تمہارا
یہ جشن جو تم منا رہے ہو
منائے گا خیر اپنی کب تک
جسے تم اب تک بچا رہے ہو
لہو پُکارے گا آستیں کا
جو قتل کرکے چھپارہے ہو
جہاں میں کردے گا تم کو رسوا
جو ظلم برقی پہ ڈھا رہے ہو


Leave a Reply