کبیر کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا: غالب اکیڈمی کے ماہانہ ادبی نشست میں ڈاکٹر جی آر کنول کا اظہار خیال

کبیر کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا
غالب اکیڈمی کے ماہانہ ادبی نشست میں ڈاکٹر جی آر کنول کا اظہار خیال
گزشتہ روز غالب اکیڈمی نئی دہلی میں ایک ادبی نشست کا اہتمام کیا گیاجس کی صدارت ڈاکٹر جی آر کنول نے کی مہمان خصوصی کی حیثیت سے ڈاکٹر سید فاروق نے شرکت کی۔چشمہ فاروقی نے اپنی کہانی گونگی باجی پیش کی اور مشہور سائنسی ادیب محمد خلیل نے فضائی آلودگی پر ایک مضمون پیش کیا۔ جس میں آلودگی کی وجہ سے ہونے وا لے نقصانات سے آگاہ کیا۔عقیل احمد نے کبیر کے عشق پر ایک مضمون پڑھا جس میں کہا کہ کبیر سور تلسی کے بغیر ہندی ادب کی روایت آگے نہیں بڑھتی۔سور کی شاعری برج بھاشا میں ہے اور تلسی کا رام حرت مانس اودھی میں ہے کبیر کی شاعری میں کئی زبانوں کا سنگم ہے۔ جو کھڑی بولی کے بہت قریب ہے اردو میں کبیر کو جو مقام ملنا چا ہیے تھا وہ نہیں ملا۔کبیر کی شاعری عشق حقیقی سے لبریز ہے۔ ڈاکٹر جی آرکنول نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ ہندستانی تہذیب اور ادب کی جب بھی بات ہوگی کبیر کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔اس موقع پر بڑی تعداد میں اردو ہندی کے شعرا نے اپنے اشعار پیش کئے۔منتخب اشعار پیش خدمت ہیں۔
کسی دن کاش وہ پنچھی ہمارے گھر ہی آجاتا

پریشاں کررہاتھا جس کو آب ودانہ برسوں سے

جی آر کنول
سب جانتے ہیں تیری نہ میری ہے یہ دنیا

پھر بھی اس دنیا کے خرافات میں گم ہے

نسیم عباسی
خاک کا پتلہ ہوں لیکن خاک کا پتلہ نہیں

غور سے میری طرف تم نے ابھی دیکھا نہیں

سید غفران اشرفی
عبرت سے ہمیں دیکھو ہم نے یہ سزا پائی

ہم آج تماشا ہیں کل تک تھے تماشائی

متین امروہوی
ان کے لبوں پر موج تبسم بکھر گئی

کتنا بڑا نصیب میری چشم تر کا ہے

ظہیر احمدبرنی
ہوں مجرم کہ محرم فقط یہ بتا دے

نظر کاتری فیصلہ چاہتا ہوں

افضل منگلوری
جن کے ہاتھوں میں چاند تارے ہیں

وہ بھی ہارے تو دل سے ہارے ہیں

کیلاش سمیر
آپ کی نعت میں سرگراں ہے قلم تاجدار حرم ہو نگاہ کرم

ہم گناہگار ہیں آپ ہیں محترم تاجدار حرم ہو نگاہ کرم

سرفراز فراز
سادگی تیری یہاں کون سمجھ پائے گا

بات کچھ ایسے بتا آگ لگا پانی میں

شاہد انور
زخم وہ دے گیا ہم کو بھی وہ جاتے جاتے

ورنہہم نے رکھے بس رشتے تھے آتے جاتے

دویا جین
تا عمر سکندر نے تیرے ناز اٹھائے

اے زیست پھر بھی تجھے خفا دیکھ رہے ہیں

سکندر عاقل
بے حسی میں نہیں رکھتی ہے جو ثانی اپنا

سارے الزام اسی قوم کے سرجائیں گے

حبیب سیفی
آج باتیں مزید لایا ہے

کسی کا لہجہ خرید لایا ہے

نزاکت امروہوی
عجب اک مسئلہ پیش آگیا تھا

میں اپنے سے ٹکرا گیا تھا

رحمان مصور
ہم خواب دیکھتے رہے اور بھولتے گئے
سبھی کرتے ہیں اس میں سودے بازی

سیاست اک تجارت ہے ؟ نہیں تو
احمد علی برقیؔ اعظمی

ہم خواب دیکھتے رہے اور بھولتے گئے
کہنے کو زندگی میں یہی مشغلے ہوئے

فرحین اقبال

اس موقع پر پرشیوم اور ونے ماہی نے بھی اپنے اشعار پیش کئے آخر میں سکریٹری کے شکریہ کے ساتھ نشست ختم کی۔

Leave a Reply