نہ جانے اب ہے کہاں میرا یار ساون میں : موج غزل ادبی فورم کے ۲۶ویں آنلاین عالمی طرحی مشاعرے بعنوان ساون بتاریخ ۲۲ جولائی ۲۰۱۷ کے لئے میری طبع آزمائی : احمد علی برقی اعظمی

نہ جانے اب ہے کہاں میرا یار ساون میں : موج غزل ادبی فورم کے ۲۶ویں آنلاین عالمی طرحی مشاعرے بعنوان ساون بتاریخ ۲۲ جولائی ۲۰۱۷ کے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقی اعظمی
نہ جانے اب ہے کہاں میرا یار ساون میں
جو رشکِ گُل تھا مجسم بہار ساون میں
شبِ فراق میں اس کو کہاں تلاش کروں
مِلا تھا مجھ سے جو دیوانہ وار ساون میں
سکونِ قلب مرا لے گیا وہ اپنے ساتھ
دلِ حزیں ہے مرا بیقرار ساون میں
مرے وجود کا حصہ تھا جس کا ناز و نیاز
وہ یاد آتا ہے اب بار بار ساون میں
فراق جس کا ہے سوہانِ روح میرے لئے
کہاں تک اس کا کروں انتظار ساون میں
وہ آج جیسے ہو خواب و خیال میرے لئے
نظر جو آتا تھا ہرسو نکھار ساون میں
بیان کس سے کروں جاکے اپنا حالِ زبوں
نہیں ہے کوئی مرا غمگسار ساون میں
ہے آج میرے لئے ناگوار وہ برقی
ہرایک چیز جو تھی خوشگوار ساون میں

Leave a Reply