مئو کی تھے عظمت فضا ابن فیضی :احمد علی برقی اعظمی

نذرِ فضا ابن فیضی مرحوم
احمد علی برقی اعظمی
مئو کی تھے عظمت فضا ابن فیضی
تھے مخدومِ ملت فضا ابن فیضی
ہیں وردِ زباں ان کے شعری محاسن
تھے وجہہِ سعادت فضا ابن فیضی
عیاں ہے یہ رنگِ تغزل سے اُن کے
سخن کی تھے رفعت فضا ابن فیضی
ہیں ۶ شعری مجموعے اس کی شہادت
تھے بر اوجِ شہرت فضا ابنِ فیضی
سلاست کے پیکر، بلاغت کے مظہر
کمالِ فصاحت فضا ابن فیضی
سپہرِ ادب پر منور ہیں اب تک
بصد شان و شوکت فضا ابن فیضی
ہے اردو ادب اُن کا مرہونِ منت
ہے برقی صداقت فضا ابنِ فیضی

استاذ الشعراء حضرت فضا ابن فیضی

سن پیدائش 1922
سن وفات 2009
نام:فیضٰ لحسن،تخلض۔فضاؔ،خلف رشید جناب مولوی منظورا لحسن صاحب
تلمیذ:حضرت مولانا فیضٰ لحسن صاحب فیضؔ
                 صاف رنگ، سوکھا ہوا کمزور بدن،موزوقد،معصوم چہرہ،منکسرالمزاج، آنکھوں پر دبیز شیشہ کی عینک، پست آواز بلند فکر ایک عہد آفریں شاعر جو برِّ صغیر ہند و پاک کے لئے محتاجِ تعارف نہیں ۔اپنے بارے میں خود ہی کہتے ہیں۔

کانٹا ہو مگر رنگ و بو رکھتا ہوں
پیاسا ہوں مگر جوشِ سبو رکھتا ہوں
شاداب نہیں گو مرا پیکر لیکن
نبضوں میں بہاروں کا لہو رکھتا ہوں

مدرسہ فیض عام مئو کے فارغ التحصیل ہیں۔منشی،مولوی،عالم و فاضل ہیں۔ اردو فارسی اور عربی تینوں زبانوں میں مہارت رکھتے ہیں۔فنِ عروض کے  کےماہر،شعروادب کے دلدادہ،بڑے پختہ کار اور صاحب نظر ہیں۔مئو ناتھ بھنجن کے شاعروں اور ادیبوں کے مذاق کی بلندی اور شائستگی آپ ہی کی دین ہے۔
نظموں اور غزلوں میں آپ کے جدید تجربے، نئی نئی تر کیبیں، خوبصورت بندشیں،دلآویز تشبیہیں اردو ادب میں اضافے کی حیثیت رکھتی ہیں۔
زند گی اور اس کی نزاکتوں پر گہری نظر رکھتے ہیں،دیکھئے کتنے حسین انداز میں کہتے ہیں۔

چھونے والے تو اسے موجِ صبا بن کے نہ چھو
زندگی پھول کی پتیّ ہےبکھر جائے گی

زبان و بیان کی شوخی اور طرزِ ادا کی جدّت ملاحظہ کیجئے۔

یہ موجِ رنگ کہیں پیرہن سے رکتی ہے
بدن تمام ہے سیّال چاندنی کی طرح

اس نحیف و نا تواں شاعر کا یہ حوصلہ بھی قابلِ رشک ہےجو دوسروں کے غم کو بھی اپنا ہی غم سمجھتے ہوئے کہتے ہیں۔

میں وہ سر گستۂ آلام زمانہ ہو فضاؔ
غم کسی کا ہو مرے رُخ سے عیاں ہوتا ہے

صرف اتناہی نہیں بلکہ نہایت جرأت کے ساتھ یہ بھی کہہ گزرے کہ۔

پھونک دے اے تپِ عصرِ حاضر مجھے
لوگ بے چین ہیں روشنی کے لئے 

اس کے با و جود جب عوام کی بے حِسی اور نا قدر شناسی پر نگاہ پڑتی ہے تو بڑے افسوس کے ساتھ اپنے تاثرات کا یوں اظہار کرتے ہیں کہ۔

یہ سوچتا ہوں کہ ہے کوئی پڑھنے والا بھی
مرے قلم نے تو لکھنے کو لکھ دیا ہے بہت

اور یہ حقیقت ہے کہ اپنے ہمعصروں میں جناب فضا ابن فیضیؔ نے جتنا کچھ لکھ دیا ہے ابتک کسی نے نہیں لکھا۔


Leave a Reply