عصری شاعری میں غزلیہ ہیئت کے نگہبان۔ ۔ ڈاکٹر برقیؔ اعظمی ڈاکٹر محمد صدیق نقویؔ ادونی، آندھرا پردیش۔ ہند

عصری شاعری میں غزلیہ ہیئت کے نگہبان۔ ۔ ڈاکٹر برقیؔ اعظمی
ڈاکٹر محمد صدیق نقویؔ
ادونی، آندھرا پردیش۔ ہند
اظہارِ ذات اور اظہارِ کائنات کے لیے دورِ حاضر میں نظم کو اہمیت حاصل ہوتی جا رہی ہے جب کہ طویل عرصے تک قطعہ بند اور غزلیہ اشعار کے توسط سے ہی تمام اظہارات کو مربوط کر دیا گیا تھا، اگر چہ عصری آگہی کی رمق نظم نگاری کے زیرِ اثر پروان چڑھ رہی ہے اور آزاد نظم اور معرّیٰ نظم کے علاوہ نثری نظم کے عنوانات سے بیشتر شعراء کیفیاتی فضا اور ماحولیاتی اظہار کو نمونہ بنا کر شاعری کی جوت جگا رہے ہیں لیکن نظم کے وسیع میدان میں غزل کی ہیئت کو برقرار رکھتے ہوئے موضوعاتی غزلِ مسلسل لکھ کر اپنا تعارف اور اردو کے مرحوم شعراء کو خراجِ عقیدت اور پھر غزل گوئی کے ذریعے منفرد لب و لہجے کی نمائندگی کرنے والے شاعروں میں ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی کا شمار ہوتا ہے جو رواں بحروں کے انتخاب اور اضافتوں سے اجتناب برتتے ہوئے خالص سہلِ ممتنع میں غزل لکھنے پر کافی عبور رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنا تعارف خود غزلیہ انداز میں منظوم کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غزل کی شعری ہیئت پر انہیں کافی عبور حاصل ہے اور مردّف ہی نہیں بلکہ غیر مردّف غزلیہ ہیئت کے ذریعے وہ نعتِ شریف لکھنے اور غزل کے موضوعات کو پیش کرنے کے ساتھ ساتھ شاعروں کو منظوم نذرانہ پیش کرنے کے لیے بھی غزل کی ہیئت کا استعمال کرتے ہیں۔ کسی شاعر کی یہ انفرادیت ہی اس کی ادبی شناخت کے لیے کافی ہے۔ برقی اعظمی نے اس چھ غزلیہ اشعار میں جس انداز سے اپنا منظوم تعارف پیش کیا ہے اس سے خود اندازہ لگانا آسان ہو جاتا ہے کہ سادہ لفظوں اور رواں تراکیب کے ذریعے شعر گوئی کرنے اور اس میں معنویت کے دفتر کے دفتر پوشیدہ رکھنے کا ہنر احمد علی برقی اعظمی کو خوب آتا ہے اور انہوں نے اپنی شاعری کے لیے غزل کی ہیئت کا استعمال کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اکیسویں صدی میں قدم رکھتے ہوئے غزل کی ہیئت میں اس قدر جان ہے کہ وہ عصرِ حاضر کے تمام نئے مسائل کو اسی ہیئت میں پیش کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہے۔ سب سے پہلے شاعر کے تعارف کو ملاحظہ فرمائیے کہ وہ کس روانی کے ساتھ غزل لکھتا ہے اور اسی غزل میں اپنے تعارف کو بھی پیش کرنے میں کامیابی حاصل کر لیتا ہے۔ شاعر کا منظوم تعارف غزلیہ لب و لہجے میں ملاحظہ ہو ؂
شہر اعظم گڑھ ہے برقی میرا آبائی وطن
میرے والد تھے وہاں پر مرجعِ اہلِ نظر
نام تھا رحمت الٰہی اور تخلّص برق تھا
آج میں جو کچھ ہوں وہ ہے اُن کا فیضانِ نظر
راجدھانی دہلی میں ہوں ایک عرصے سے مقیم
ریڈیو کے فارسی شعبے سے ہوں میں منسلک
جس کی عظمت کے نشاں ہیں ہر طرف جلوہ فگن
جن کے فکر و فن کا مجموعہ ہے تنویرِ سخن
ضو فگن تھی جس کے دم سے محفلِ شعر و سخن
اُن سے ورثے میں ملا مجھ کو شعورِ فکر و فن
کر رہا ہوں میں یہاں پر خدمتِ اہلِ وطن
میرا عصری آگہی برقی ہے موضوعِ سخن
سادہ اور رواں لفظوں کے ذریعے غیر مردّف غزلیہ اشعار کے توسط سے ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی نے جس ہمہ دانی کے ساتھ تعارف کروایا ہے وہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ شاعر کو علمِ عروض اور شاعری ہی نہیں بلکہ شعری پیراہن میں کسی کیفیت کو بیان کرنے کی خصوصیت پر پوری طرح عبور حاصل ہے اور یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں یہ صلاحیت خدا کی جانب سے عطا ہوئی ہے اور مشقِ سخن نے انہیں مکمل شاعر کی حیثیت سے رُوشناس کرایا ہے۔ اس منظوم تعارف سے خود اندازہ ہو جاتا ہے کہ برقی اعظمی عصری حسّیات سے مالا مال ایسے شاعر ہیں جو صرف اور صرف غزلیہ پیراہن کے توسط سے ہر موضوع اور ہر کیفیت کو بیان کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں چنانچہ نعت جیسی مشکل صنف کو بھی رواں بحر میں پیش کر کے برقی اعظمی نے اپنی فنی خوبیوں کا اظہار کیا ہے جس کو محسوس کرنے کے لیے نعت کے چند اشعار پیش ہیں جن میں روانی اور تسلسل کے علاوہ خیال کے بہاؤ کی ایسی خوبی پائی جاتی ہے کہ جس کی مثال اردو کے بہت کم شعراء کے کلام میں دکھائی دیتی ہے۔
ہدایت کی شمعِ فروزاں تم ہی ہو
ہے قول و عمل جس کا یکساں تم ہی ہو
نہیں جس کا کونین میں کوئی ثانی
زباں جس کی برقیؔ ہے قرآنِ ناطق
خدا خود ہے جس کا ثنا خواں تم ہی ہو
کتابِ سعادت کا عنواں تم ہی ہو
ہیں جن و بشر جس پہ نازاں تم ہی ہو
جو ہیں سر بسر نورِ یزداں تم ہی ہو
بلا شبہ فخرِ موجودات، احمدِ مجتبیٰ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح کے لیے جس دل گداز لب و لہجے کو استعمال کر کے برقی اعظمی نے شعری فن کا اظہار کیا ہے اس کی مثال نعتیہ شاعری میں بھی ملنی مشکل ہے اور یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ برقی اعظمی صرف تفننِ طبع یا پھر شعر گوئی کا حق ادا کرنے کے لیے کلام نہیں لکھتے بلکہ علمِ عروض کی پنہائیوں کو اپنے اندر سمو کر جب شاعری میں ڈوب جاتے ہیں تب شعر کہتے ہیں اسی لیے اُن کی شاعری میں نہ صرف اصلیت اور سادگی بلکہ جوش کے علاوہ تفحّصِ الفاظ اور مشاہدۂ ذات و کائنات کی وہ تمام خوبیاں شامل ہو جاتی ہیں جنہیں مولانا حالی نے شاعری کی ضرورتیں قرار دے کر یہ ثابت کیا تھا کہ ان پانچوں عوامل کے ملنے کی وجہ سے ہی اعلیٰ ترین شاعری کے نمونے منظرِ عام پر آتے ہیں۔ غرض اکیسویں صدی میں داخل ہوتے ہوئے مولانا حالی کی تنقیدی روایات کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے برقی اعظمی نے غزل کی ہیئت کی برقراری کے ساتھ ایک ایسی دنیا سجائی ہے جس میں موضوعات کے تنوع کے ساتھ ساتھ اظہارات کی ہمہ گیری اور خیالات کی پیش قدمی کا ایسا رجحان پایا جاتا ہے کہ جس کی مثال اردو شاعری میں دو صدیوں میں ملنی مشکل ہے۔ حالی نے شاعری کو سادہ اور آسان بنایا لیکن حالی کے بعد کے تمام نظم نگار شعراء جیسے چکبستؔ، دیا شنکر نسیمؔ، تلوکؔ چند محروم،  علامہ اقبالؔ، جوشؔ ملیح آبادی حتیٰ کہ ترقی پسند شاعروں نے بھی نظم کی شاعری کو پیچیدہ تراکیب اور تشبیہات اور استعارات کی دنیا سے وابستہ کر کے شاعری کو سادگی سے دور کر دیا، اگر اُس دور میں سادہ لفظیات کے ساتھ شاعری کو فروغ دینے والے شعراء کا نام لیا جائے تو اُن میں جگرؔ، فانیؔ، حسرتؔ اور خمارؔ جیسے شعراء دکھائی دیتے ہیں جنہوں نے سادہ لفظیات کے ساتھ شاعری میں پُرکاری کے حُسن کو شامل کر دیا، اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی اسی روایت کی توسیع کے علمبردار نظر آتے ہیں اور انہوں نے بطورِ خاص غزل کے لب و لہجے اور اُس کی ہیئت کو برقرار رکھتے ہوئے موضوعاتی شاعری کر کے یہ ثابت کر دیا کہ غزل کی ہیئت صرف حسن و عشق اور گل و بلبل کی شاعری کی نمائندہ نہیں بلکہ عصرِ حاضر کے مسائل کی پیش کشی اسی غزلیہ ہیئت کی شاعری میں ممکن ہے۔ چنانچہ انہوں نے دورِ حاضر کے نمائندہ مسائل کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ایسی شاعری کی طرف توجہ دی جو موضوعات کا احاطہ کرتے ہوئے بہتر اظہار کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس اظہار کے لیے انہوں نے انگریزی لفظیات کو بھی غزلیہ اشعار کا پیرہن بخش دیا۔ غزل کی ہیئت میں لکھی اُن کی نظم’’ ہے آلودگی نوعِ انسان کی دشمن‘‘ کے چند اشعار پیش ہیں جس میں شاعر نے انگریزی لفظیات کو بھی غزلیہ آہنگ میں شامل کرتے ہوئے نئی ندرت کا ثبوت فراہم کیا ہے۔
سلو پوائزن ہے فضا میں پلیوشن
ہر اک شخص پر یہ حقیقت ہے روشن
یوں ہی لوگ بے موت مرتے رہیں گے
نہ ہو گا اگر جلد اس کا سلیوشن
بڑے شہر ہیں زد میں آلودگی کے
جو حسّاس ہیں اُن کو ہے اس سے اُلجھن
فضا میں ہیں تحلیل مسموم گیسیں
ہیں محدود ماحول میں آکسیجن
جدھر دیکھیے ’’کاربن‘‘ کے اثر سے
ہیں مائل بہ پژ مردگی صحنِ گلشن
کسی کو ہے ’’دمّہ‘ کسی کو ’’الرجی‘‘
مکدّر ہوا ہے کسی کو ہے ٹینشن
سلامت رہے جذبۂ خیر خواہی
چھڑائیں سبھی اس مصیبت سے دامن
؂
طویل نظم کے چند اشعار پیش کر کے یہ بات ثابت کی جا رہی ہے کہ احمد علی برقی اعظمی نے ایک ایسے عہد میں موضوعاتی غزلیں لکھ کر نظمیہ کیفیت پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے اور دورِ حاضر کے مروجہ انگریزی الفاظ کو اُن میں جگہ دے کر اسلوب کی ایسی سطح نمودار کی ہے جسے برقی اعظمی کی جدّت ہی نہیں بلکہ اُن کی ایجاد سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ برقی اعظمی معاصر ادب کے ایک ایسے نبّاض شاعر ہیں جنہوں نے عصری ماحول اور اُس میں پیدا ہونے والی بے ضابطگیوں کی نبض پر ہاتھ رکھ کر نہ صرف بیماری کی شناخت کی ہے بلکہ اُس کے لیے موزوں اسلوب کی دوا بھی پیش کر دی ہے۔ انہوں نے غزل کی محدود ہیئت کو لامحدود بنا کر موضوعاتی تنوع کو اس انداز سے شامل کیا ہے کہ غزل میں بھی نظم کا حُسن نمایاں ہو رہا ہے اس لیے انہیں مبارک باد دی جانی چاہیے کہ اُن کی غزلیہ شاعری نے سماجی موضوعات کی پیش کشی میں کامیابی حاصل کر کے غزل کی ہیئت کی مؤثر نشاندہی کر دی ہے۔ رواں بحروں اور سادہ لفظوں کے ذریعے پُر اثر بنانے والے شاعروں میں جگرؔ مراد آبادی اپنی انفرادی شناخت رکھتے ہیں اور برقی اعظمی کی شاعری کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے جگرؔ کی شاعری سے استفادے کی ایک نئی صورت منظرِ عام پر لائی ہے اور وہ جگرؔ کے تمام شاگردوں میں اس لیے ممتاز اور ممیز ہیں کہ جگر کے مدح خوانوں نے یا تو غزل کی شاعری کو اپنایا یا پھر خالص ہندوستانی کھیت کھلیان کی کیفیت کو شاعری میں پیش کر کے جگرؔ کی نمائندگی کا حق ادا کیا،  اس کے بجائے برقی اعظمی نے جگرؔ کے لب و لہجے کو سلامت رکھتے ہوئے غزل کی دنیا میں نظمیہ لطافت کو شامل کرنے میں کامیابی حاصل کی اور یہی خوبی برقی اعظمی کی شعری شناخت کا وسیلہ بن جاتی ہے۔
دورِ حاضر کے جدید موضوعات میں خاص طور پر’’ گلوبل وارمنگ‘‘ کو ہی ردیف بنا کر انہوں نے طویل غزلیہ نظم لکھی اسی طرح انٹرنٹ، عالمی سائنس ڈے، عالمی ارض ڈے، ایڈز کا سدِّ باب، آلودگی باعثِ حادثات، آلودگی مٹائیں جیسے موضوعات کو بھی غزلیہ شاعری میں پیش کرتے ہوئے برقی اعظمی نے ندرتِ فکر اور موضوع کی پیش کشی کے معاملے میں حد درجہ کامیابی حاصل کی ہے۔
ہر موضوع پر اُن کی شاعری میں غزلیہ ہیئت کی نظمیں موجود ہیں اور رواں لب و لہجے کی وجہ سے اُن کی شاعری نہ صرف عام فہم اور دل کو متاثر کرتی ہے بلکہ اُس کی روانی شعر کو گنگنانے اور اُسے یاد کر لینے کا سبب بھی بن جاتی ہے۔ اُن کی غیر مردّف غزلیہ ہیئت میں پیش کردہ موضوعاتی غزل کا عنوان ہے ’’منحصر ہے آج انٹر نٹ پہ دنیا کا نظام‘‘ کے چند اشعار ملاحظہ ہوں جن میں انٹر نٹ کی انگلش لفظیات کو انہوں نے بڑی ہی چابکدستی کے ساتھ استعمال کیا۔ نظم کے غزلیہ لہجے میں اظہار اور تسلسل کی روانی کو ہر ادب دوست محسوس کرسکتا ہے۔
منحصر ہے آج انٹرنٹ پہ دنیا کا نظام
اشہبِ دوراں کی ہے اس کے ہی ہاتھوں میں لگام
’’ورلڈ وائڈ ویب ‘‘میں ہے ممتاز ’گوگل ڈاٹ کام‘
استفادہ کر رہے ہیں آج اس سے خاص و عام
سب سوالوں کا تسلّی بخش دیتی ہے جواب
اس لیے مشہور ہے سارے جہاں میں اس کا نام
ہیں ’’ریڈف میل‘‘ اور ’’یاہو‘‘ بھی نہایت کارگر
جاری و ساری ہے ان کا بھی سبھی پر فیضِ عام
خدمتِ اردو میں ہے مصروف’’اردستان‘‘ اور
’’انڈین مسلمس‘‘، ’’ٹو سرکلس‘‘ خبریں ڈاٹ کام
ہیں یہ ویب سائٹ ضرورت وقت کی احمد علی
اس لیے اہلِ نظر کرتے ہیں ان کا اہتمام
ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی نے غزلیہ ہیئت کو کام میں لاتے ہوئے جتنی بھی نظمیں لکھی ہیں اُن میں اکثر جگہوں پر مردّف رویے کو اختیار کیا ہے کہیں کہیں غیر مردّف لہجے کی بھی نمائندگی کی ہے۔ بلا شبہ غزلیہ ہیئت میں خیالات نظم کرنے کے لیے غیر مردّف ہیئت کو ہی ترسیل کی تکمیل کا موقع حاصل ہو جاتا ہے اس لیے برقی اعظمی کی شاعری میں اسی طرز کی مؤثر نمائندگی موجود ہے،  اس کے علاوہ برقی اعظمی کا ایک اہم کارنامہ یہ بھی کہ انہوں نے ’’یادِ رفتگاں ‘‘ کے زیرِ عنوان اردو کے مرحوم شاعروں اور ادیبوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے بھی غزلیہ ہیئت میں اظہارِ خیال کیا ہے، انہوں نے معاصر شاعروں اور ادیبوں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ’’شخصی مرثیہ‘‘ کے توسط سے ابنِ صفی، مشتاق احمد یوسفی، احمد فراز اور فیض احمد فیض اور علامہ اقبال کی ستائش کے لیے غزل کی ہیئت میں بہترین خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ ہر شاعر اور ادیب پر لکھی ہوئی اُن کی غزل نما نظموں کو نمونے کے طور پر پیش کرنا سخت دشوار ہے اس لیے ابنِ صفی کی یاد میں اُن کا منظوم خراجِ عقیدت بطورِ نمونہ پیش کیا جاتا ہے۔ غزل کے اس انداز میں بھی انہوں نے یادِ رفتگاں کے زیرِ عنوان غیر مردّف غزلیہ ہیئت کو پیشِ نظر رکھا ہے۔ ابنِ صفی مرحوم کی یاد میں اُن کے چند اشعار بطورِ نمونہ پیش ہیں۔
ابنِ صفی سپہرِ ادب کے تھے ماہتاب
اردو ادب میں جن کا نہیں ہے کوئی جواب
وہ اپنے دوستوں کے دلوں میں ہے آج تک
ویب سائٹ اُن کی کیوں نہ ہو عالم میں انتخاب
جاسوسی ناولوں میں جو ہیں اُن کے شاہکار
اپنی مثال آپ ہیں وہ اور لاجواب
کرداروں کی زبان سے اپنے سماج کے
وہ کر رہے تھے تلخ حقائق کو بے نقاب
برقیؔ جو اُن کا فرض تھا وہ تو نبھا گئے
ہے اقتضائے وقت کریں اُس کا احتساب
ڈاکٹر احمد علی برقی نے مرحوم شاعروں اور ادیبوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے بھی سادہ لب و لہجے کی توسط سے غزلیہ ہیئت میں فن کے گُن گائے ہیں اس سے خود اندازہ ہوتا ہے کہ برقی اعظمی ہر خیال اور موضوع کو پوری تابناکی کے ساتھ شعر میں پیش کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں البتہ یہ ایک حقیقت واضح ہوتی ہے کہ انہوں نے غزل کی ہیئت کے لیے بے شمار عروضی آہنگ کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف ان ہی بحروں کا انتخاب کیا جو رواں اور دل بستگی کا سامان فراہم کرتی ہیں۔ بعض اوقات ایک ہی بحر میں استعمال ہونے والی کئی موضوعاتی نظمیں اور خراجِ عقیدت کا انداز اُن کی شاعری کو یکسانیت سے ہم آہنگ کر دیتا ہے لیکن اُن کے شاعرانہ تشخّص کو بہر حال قبول کیا جانا چاہیے۔ بے شمار موضوعاتی نظموں،  یادِ رفتگان اور اپنے تعارف کے علاوہ نعت اور غزلوں کے ذریعے برقی اعظمی نے اعلیٰ انداز کی محفل سجائی ہے اور اُن کی غزلوں میں بھی وہی سادگی اور روانی کام کر جاتی ہے جو شعر کی تفہیم کے ساتھ ساتھ اُس کی ترسیل کا حق بھی ادا کرتی ہے۔ چونکہ انہیں جگرؔ مراد آبادی کے رنگِ تغزّل سے خصوصی دلچسپی ہے اور وہ خود کو جگرؔ کے پیرو قرار دیتے ہیں اس لیے جگرؔ کی غزلوں کی زمینوں میں انہوں نے نذرِ جگر مرادآبادی کا جو ایوان سجایا ہے وہ بھی بذاتِ خود ادب کا ایک اہم حصّہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ جگر کو اُن کی غزلوں کی زمینوں میں خراجِ عقیدت پیش کرنا بھی ایک مشکل رویہ ہے لیکن اس مرحلے میں بھی برقی اعظمی ثابت قدمی سے اپنی راہ کا تعیّن کر لیتے ہیں۔ جگر کے بارے میں اُن کی نذرِ جگر والی غزلیہ ہیئت کی نظموں سے چند اشعار پیش ہیں جس میں انہوں نے جگر کی غزلوں کی زمینوں کو بروئے کار لایا ہے۔
ہے جگر کی شاعری برقی حدیثِ دلبری
اس تغزّل نے بنا ڈالا ہے دیوانہ مجھے
نذرِ جگر کے چند اور شعر جو بذاتِ خود برقی اعظمی نے جگر کے لب و لہجے کو برقرار رکھتے ہوئے پیش کیا ہے ملاحظہ ہو ؂
میں جدائی تری کس طرح سہوں شام کے بعد
بن ترے تُو ہی بتا کیسے رہوں شام کے بعد
جُز ترے کون کرے گا مری وحشت کا علاج
کس سے میں اپنا کہوں حالِ زبوں شام کے بعد
آتا رہتا ہے مرے ذہن میں اکثر یہ خیال
کیا ملے گا کبھی مجھ کو بھی سکوں شام کے بعد
ضبط کرتا ہوں بہت احمد علی برقیؔ مگر
بڑھنے لگتا ہے مرا جوشِ جنوں شام کے بعد
برقی اعظمی نے کئی غزلوں میں جگرؔ کے انداز کو برقرار رکھتے ہوئے انہیں اُن کی زمینوں میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ اُن کی غزلوں میں بھی فطری روانی اور غزل کی چابکدستی نمایاں ہوتی ہے۔ وہ طویل غزلیں لکھنے پر بھی قدرت رکھتے ہیں اور اُن کی غزلوں میں قافیے بڑے چست اور معنی خیز ہوتے ہیں۔ وہ بڑی چابکدستی کے ساتھ خیالات کو لفظوں کے بندھن میں باندھنے کا ہنر رکھتے ہیں اور خاص بات یہی ہے کہ انہوں نے غزل کی روایتی خصوصیات کو بنائے رکھنے میں اپنے فن کو شدّت کے ساتھ استعمال کیا ہے۔ اُن کی غزلوں سے کسی مختص شعر کا انتخاب کر کے پیش کرنا سخت دشوار ہے کیونکہ ہر شعر اپنی وحدت اور خیال کی باریک بینی کی وجہ سے کیفیاتی فضا قائم کرنے میں منفرد ہے البتہ انہوں نے اپنے مقطعوں میں جس ندرت اور پاکیزہ خیالی کو پیشِ نظر رکھا ہے اُس کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اُن کی غزلوں کے چند مقطعے بطورِ نمونہ پیش ہیں۔
طبیعت ہے برقیؔ کی جدّت پسند
کسی نے نہیں جو کیا کر چلے
کچھ نہ آئی کام میری اشک باری ہجر میں
سو صفر جوڑے مگر برقیؔ نتیجہ تھا صفر
ناکامیوں سے کم نہ ہوا میرا حوصلہ
برقیؔ قدم میں آگے بڑھاتا چلا گیا
سفر دشتِ تمنا کا بہت دشوار ہے برقیؔ
پہنچ جاؤں گا میں لیکن وہاں لغزیدہ لغزیدہ
برقیؔ کے حالِ زار تھی اُس نے نہ لی خبر
وہ کر رہا تھا نامہ نگاری تمام رات
برقی اعظمی رواں بحروں میں غزل لکھنے کی حسن کاری سے بخوبی واقف ہیں اور وہ جمالیاتی احساس کو غزل میں شامل کر کے ایک جانب تو شعری کائنات سجاتے ہیں تو دوسری جانب احساس کی گرمی کے توسط سے اپنے کلام کو تاثیر سے وابستہ کرتے ہیں۔ اُن کی شاعری کے یہ چند ایسے اوصاف ہیں جو عصرِ حاضر کے شاعروں میں خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ اس لیے روانی اور سبک روی کے ساتھ غزل کی کائنات سجانے پر برقی اعظمی کے کلام کا استقبال کرنا چاہیے اور یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے غزل کے اظہاری وسیلے کو وسعت دے کر اکیسویں صدی میں غزلیہ شاعری کی اہمیت اور افادیت کو حد درجہ مستحکم کر دیا ہے۔