عشق نگراردو شاعری کے ۴۱ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری کاوش احمد علی برقی اعظمی

عشق نگراردو شاعری کے ۴۱ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری کاوش
احمد علی برقی اعظمی
جو ہوا جیسا ہوا اچھا ہوا
اُس کا اب سُر تال ہے بدلا ہوا
ہوگیا خود راندۂ درگاہ وہ
اس نے جیسا تھا کیا ویسا ہوا
آرہا ہے اب اسے میرا خیال
جب سرِ بازار وہ رسوا ہوا
بند کرتا تھا جو سب کا ناطقہ
اپنے سائے سے ہے وہ سہما ہوا
اپنی جس دولت پہ اس کو ناز تھا
دشمنِ جاں اُس کا وہ پیسا ہوا
پُرسشِ احوال کیوں پہلے نہ کی
’’ اب بھلا کیوں پوچھتے ہو کیا ہوا ‘‘
اس کو ہے درپیش اب برقی وہی
ساتھ میرے جو نہ ہونا تھا ہوا
عشق نگراردو شاعری کے ۴۱ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری دوسری کاوش
احمد علی برقی اعظمی
جس کا چہرہ تھا کبھی ہنستا ہوا
اب نظر آتا ہے وہ روتا ہوا
شوق تھا جس کو جلانے کا مجھے
دیکھتا ہوں اب اسے جلتا ہوا
مانگتا ہے زندگی کی بھیک وہ
دیکھتا تھا جو مجھے مَرتا ہوا
جس کو آتا تھا ڈرانے میں مزا
سامنے آیا مرے ڈرتا ہوا
پوچھتا ہے میرے گھر کا وہ پتہ
نالہ وفریاد اب کرتا ہوا
باغباں نے کردیا اس کو تباہ
جو شجر تھا پھولتا پھلتا ہوا
ہو گئے زردار لمحوں میں فقیر
کھوٹا سکہ ہو گیا چلتا ہوا
کررہا ہوں زندگی برقی بسر

وقت کے سانچے میں میں ڈھلتا ہوا

Leave a Reply