’’ ذرا عمرِ رفتہ کو آواز دینا ‘‘ : نذرِ صفی لکھنوی۔۔۔ احمد علی برقی اعظمی

غزل

احمد علی برقیؔ اعظمی

بجھے دل سے مجھ کو نہ آواز دینا

جو دینا بصد غمزہ و ناز دینا
ہے دل میں جو میرے وہی ہے زباں پر
مجھے حق بیانی کا اعزاز دینا
سرود محبت سناوٌں گا تم کو
یہ مضراب ہے اس کو تم ساز دینا
جواں ہو گیا دیکھ کر اس کو یہ دل
’’ ذرا عمرِ رفتہ کو آواز دینا ‘‘
جو کرلے دلوں کو مسخر سبھی کے
قلم کو مرے ایسا اعجاز دینا
سپہرِ ادب یہ مجھے راس آئے
خدایا مجھے ایسی پرواز دینا
دلوں پر لگاتا ہو جو ضَربِ کاری
نہ ایسا کبھی ناز و انداز دینا
جو ہوجائے میرے لئے وجہہِ زحمت
نہ ایسا کوئی محرمِ راز دینا
ہو اسلوب برقیؔ کا کمیاب و نادر
جہاں میں جو ہو سب سے ممتاز دینا