دل تو لگتا نہیں ہمارا بھی ( مصرعہ طرح افتخار راغب ) دیا ادبی فورم کے ۷۹ویں آن لائن فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری کاوش احمد علی برقی اعظمی

 دیا ادبی فورم کے ۷۹ویں آن لائن فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری کاوش
احمد علی برقی اعظمی
زندگی کا ہے جو سہارا بھی
جیتے جی ہے اسی نے مارابھی
کاش اس کی مجھے خبر ہوتی
اس سے ملنے میں ہے خسارا بھی
ضرب کاری تھی اتنی سخت اس کی
چور ہوجائے سنگِ خارا بھی
آگیا دل نہ جانے کیوں اس پر
جس سے ملنا نہ تھا گوارا بھی
ہو گئی اُلٹی میری ہر تدبیر
کام آیا نہ استخارا بھی
میرا جس مہ جبیں پہ دل آیا
دلربا بھی تھا اور دلآرا بھی
کیا کریں اس سے بن ملے برقی
’’
دل تو لگتا نہیں ہمارا بھی‘‘

Leave a Reply