خانۂ دل کا باب ہیں آنکھیں : احمد علی برقی اعظمی۔عشق نگر اردو شاعری کے ۳۳ ویں عالمی فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری کاوش

عشق نگر اردو شاعری کے  ۳۳ ویں عالمی فی البدیہہ طرحی مشاعرے  کے لئے میری کاوش
احمد علی برقی اعظمی
خانۂ دل کا باب ہیں آنکھیں
روح حسن و شباب ہیں آنکھیں
ہیں یہ مشاطۂ عروس حیات
حُسن کی آب و تاب ہیں آنکھیں
جسم میں ہیں یہ مطلعِ انوار
صورتِ ماہتاب ہیں آنکھیں
دستِ قدرت کا شاہکار ہیں یہ
تحفۂ لاجواب ہیں آنکھیں
ہیں یہ شمعِ حیات کی تنویر
ضوفشاں آفتاب ہیں آنکھیں
ایک مدت سے ہے جو لاینحل
وہ سوال و جواب ہیں آنکھیں
عالمِ آب و گِل میں اے برقی
اک حسیں انتخاب ہیں آنکھیں
عشق نگر اردو شاعری کے  ۳۳ ویں عالمی فی البدیہہ طرحی مشاعرے  کے لئے میری دوسری کاوش
احمد علی برقی اعظمی
جسم میں لاجواب ہیں آنکھیں
نشہ آور شراب ہیں آنکھیں
ہیں یہ سوزِ دروں کا آئینہ
مظہر اضطراب ہیں آنکھیں
جستجو میں کسی کی سرگرداں
دشتِ دل میں سراب ہیں آنکھیں
زندگی نہیں ہے کوئی رمق
جب سے زیر عتاب ہیں آنکھیں
منتشر جس کے ہیں سبھی اوراق
ایک ایسی کتاب ہیں آنکھیں
حسرتِ دید ہے ابھی باقی
اس لئے نیم خواب ہیں آنکھیں
ہے جو برقی کے باغِ دل کی بہار

اس کی مثلِ گُلاب ہیں آنکھیں

Leave a Reply