ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کی جانب سے 163 واں منفرد عالمی تنقیدی پروگرام بعنوان ایک عالمی شام چار شعرا کے نام


ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری                              
کی جانب سے 163 واں منفرد عالمی تنقیدی پروگرام
صدارت
محترم سیّد ایاز مفتی ہوسٹن ٹیکساس امریکہ
مہمانِ خصوصی 
اسکرپٹ رائٹڑ
محترمہ دلشاد نسیم صاحبہ لاہور
نظامت
محترمہ ثمینہ ابڑو پاکستان
رپورٹ 
محترم ڈاکٹر سراج گلاٹھوی بھارت
پروگرام آرگنائزر 
توصیف ترنل ہانگ کانگ
بانی وچیئرمین ادارہ
تاریخ 28-07-2018
شام سات بجے
ناقدین 
محترم شفاعت فہیم بھارت
محترم قیوم راز مارولی جلگانو…انڈیا
محترم مختار تلہری بھارت
محتر۔ انور کیفی مرادابادبھارت
محترم ضیا شادانی بھارت
محترم شہزا نیّر پاکستان
مبصرین 
محترم ڈاکٹر نبیل احمد نبیل لاہور پاکستان
محترمہ غزالہ انجم بورے والا پاکستان
محترمہ نفیسہ حیا احمدنگر, مہاراشٹر بھارت
محترم مائل پالدھوی بھارت
ایک عالمی شام چار شعرا کے ساتھ 
تنقید ی پروگرام
شعرا اپنی 5 کاوشیں پیش کر سکتے ہیں
حمد
محترم امین جس پوری صاحب بھارت
نعت 
محترم ارشد محمود ارشد سرگودھا پاکستان
امین اڈیرائی پاکستان
محترم مسعود حساس کویت
محترمہ ڈاکٹر مینانقوی مرادابادبھارت
محترم ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی نئی دہلی بھارت
حمدِ پاک
تو ہی واقف ہے کیا،کس شے میں ہے حکمت تیری
ماوریٰ وہم و گماں سے بھی ہے،خلقت تیری
ترجماں تیری ہی عظمت کے ہیں سب لوح و قلم
تیری قدرت کے نشاں،آسماں، جنّت تیری
خلد و دوزخ و ملائک،ترے میزان و فلک
ہے عیاں ان کے تصّو ر سے ہی طاقت تیری
تیرے حکم کے پابند ستاروں کے نظام
چاند میں روشنی،پھولوں میں ہے رنگت تیری
ذائقے کیا کیا ہیں اثمار کے باطن میں رکھے
سائے پیڑوں کے ترے،مہر میں سطوت تیری
ایک بھی شے نہیں جس کا نہ ہو مصرف کوئی
فیض سے خالی نہیںکوئی بھی نعمت تیری
ظلم کرتا نہیں ظالم پہ بھی رحمت کے سوا
ہر عدالت سے ہے افضل تو عدالت تیری
عقل سے، فہم سے، ادراک سے بالا تو ہے
صرف تعریف کے لائق ہے تو عظمت تیری
تیری توصیف رقم کیا کرے خامہ میرا
مجھ سے کم علم سے کیا ہو بیاںمدحت تیری اپنے ہی
بزمِ ہستی ہے ترے ذِکر سے قائم، یارب!
ہرگھڑی ذہن میں ہو شوکت و حشمت تیری
دن ہیں برکت لئے یعنی ہیں عطاؤں کے امینؔ
رات، راحت کے لئے، یعنی ہے شفقت تیری
امین جس پوری
نعتِ رسولﷺ
اس لیے دوسروں سے اعلیٰ ہوں
آپؐ کی نعت کہنے والا ہوں
دھڑکنوں کی صدا ہے اسمِ نبیؐ
آپؐ کا نام لے کے جیتا ہوں
میرے کاسے پہ بھی ہو نظرِ کرم
آپؐ کے در کا میں بھی منگتا ہوں
روزِ محشر مرا بھرم رکھنا 
آپؐ کا ہوں میں چاہے جیسا ہوں
یا نبیؐ ! خواب میں کبھی آئیں
آپ کی دید کا میں پیاسا ہوں
ان کہی بھی مری سمجھ لیں گے
آپؐ دانا ہیں اور میں سادہ ہوں
میں تخیل میں بار ہا ارشد
آپؐ کے گھر سے ہو کے آیا ہوں
ارشد محمود ارشد
ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری
کے پروگرام 163. کے لئے 5 غزلیں اور تعارف
28 جولائی 2018
تنقید کی اجازت ہے
نام ۔۔ دلشاد نسیم ۔
جائے پیدائش ۔۔ کراچی
تعلیم ۔۔ ایم اے فلاسفی
ایدیٹر ۔۔ خواتین ڈائجسٹ
مختلف ادبی اور خواتین کے رسائل میں چھپتی رپی ہوں اور تاحال لکھ رہی ہوں
ہوسٹ ۔۔ بچوں کا ٹی وی پروگرام
ہوسٹ ۔۔ ریڈیو پروگرامز
سکرپٹ رائٹر ۔۔ ایڈیٹر ۔۔ کاننٹ ہیڈ
کتابیں ۔۔
3 ناول ۔۔
نظموں کا مجموعہ
غزلوں کا مچموعہ
افسانوں کا مجموعہ
لاتعداد سیریل ۔۔ سوپ اور سنگل ڈرامے
پچھلے پہر کی نیند سے جاگی ہوئی ہوں میں 
یہ کیسے اضطراب سے بندھی ہوئی ہوں میں
دھڑکا سا مجھ کو بجھنے کا، ہے بھی ،نہیں بھی ہے 
جیسے کسی چراغ میں رکھی ہوئی ہوں میں
ہاتھوں کی تیری اوک پہ میں جب سے سج گئی 
ہر اک دعائے عشق سے گندھی ہوئی ہوں میں
کیوں مجھ کو دیکھ کر تری آنکھوں میں اشک ہیں
کیا تجھ کو بھی لگا ہے کہ روئی ہوئی ہوں میں ؟
پھر سےگھما کے چاک کو میری خبر تو لے
کس گردشِ حیات میں ٹہری ہوئی ہوں میں
میں تیری بے وفائی کو بھی مصلحت کہوں 
جانے یہ کس خیال میں کھوئی ہوئی ہوں میں
نہ جانے کیسی محبت کے وعدے رات جلے
جلا جو خط تو سکھی میرے دونوں ہاتھ جلے
گزارا دن جو اداسی میں شام کہنے لگی 
بہت اکیلی ہوں میں کوئی میرے ساتھ جلے
پلٹ کے حال نہ پوچھا فریب کاروں نے
یہ دل کے ساتھ مرے ایک اور گھات جلے
گنوا کے بیٹھی ہوں میں آج اپنا سارا قرار 
کہ ساتھ چاند کے میری تو ساری رات جلے
میں اُس کہانی کا کردار ہوں کہ جس میں سدا
وفا کو لکھنے سے پہلے ہی میرا ہاتھ جلے
خزاں کے بعد بہاروں کی راہ دیکھی تو 
یہ حیف صد کہ مری آرزو کے پات جلے
ہے پیاس ایسی کہ دلشاد آنسو تک ہیں پیے
کہ تیرے ہجر میں دل میرا بات بات جلے
درد دل کا کفیل ہوتا ہے 
ہجر کا بھی قبیل ہوتا ہے
یاد آیا نہ کر نمازوں میں 
میرا سجدہ طویل ہوتا ہے
بے وفاؤں کے ذکر میں تیرا 
تزکرہ بر سبیل ہوتا ہے
عرصہ ء زیست تم ذ را سوچو
ہائے کتنا قلیل ہوتا ہے
اے شبِ غم ہر ایک پل تیرا
مجھ کو صدیاں مثیل ہوتا ہے
اشک جو عشق نے بہایا وہ
عاشقوں کا وکیل ہوتا ہے
تنہا بے چارہ سا یہ میرا دل
تیرے بن اب علیل ہوتا ہے
اشک آنکھوں میں چھپاتے ہوئے روئی ہوں بہت
حالِ دل اس کو سناتے ہوئے روئی ہوں بہت
روشنی کمرے میں تھی وہ یونہی شب بھر جاناں 
پر کوئی بات بتاتے ہوئے روئی ہوں بہت
آدھے لکھے ہوئے افسانے، مہکتی نظمیں 
خاک میں خواب ملاتے ہوئے روئی ہوں میں
میں نے جب دیکھ لیا دریا سمندر ہوتے 
اشک کو دریا بناتے ہوئے روئی ہوں بہت
ایک دیوار اگر کم ہو تو بنتا نہیں گھر 
ایک دیوار اٹھاتے ہوئے روئی ہوں بہت
ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری 
کی جانب سے پیش کرتے ہیں
تنقید کی اجازت ہے
احوالِ واقعی
میں (احمد علی برقیؔ اعظمی) ۲۵؍ دسمبر ۱۹۵۴ء کو شہر اعظم گڑھ (یو۔پی) کے محلہ باز بہادر میں پیدا ہوا۔ میں درجہ پنجم تک مدرسہ اسلامیہ باغ میر پیٹو، محلہ آصف گنج، شہر اعظم گڑھ کا طالبعلم رہا، بعد ازآں شبلی ہائر سیکینڈری اسکول سے دسویں کلاس کا امتحان پاس کرنے کے بعد انٹرمیڈیٹ کلاس سے لے کر ایم۔اے اُردو تک شبلی نیشنل کالج، اعظم گڑھ کا طالب علم رہا۔ میں نے ۱۹۶۹ء میں ہائی اسکول، ۱۹۷۱ء میں انٹرمیڈیٹ، ۱۹۷۳ء میں بی۔اے اور ۱۹۷۵ء میں ایم۔اے اُردو کی سند حاصل کی اور شبلی کالج سے ہی ۱۹۷۶ء میں بی۔ایڈ کیا۔
بعد ازآں مزید اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے ۱۹۷۷ء میں دہلی آ کر جواہر لعل نہرو یونیورسٹی،نئی دہلی میں ایم۔اے فارسی میں داخلہ لیا اور یہاں سے ۱۹۷۹ء میں ایم۔اے فارسی کی سند حاصل کی اور بعد ازآں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی ہی سے پی۔ ایچ۔ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
میرے والد کا نام رحمت الٰہی اور تخلص برقؔ اعظمی تھا جو نائب رجسٹرار قانون گو کے عہدے پر فائز تھے۔میرے والد ایک صاحب طرز اور قادر الکلام استاد سخن تھے جنہیں جانشینِ داغؔ حضرت نوحؔ ناروی سے شرفِ تلمذ حاصل تھا۔ میرے بچپن کا بیشتر حصہ والد محترم کے سایۂ عاطفت میں گزرا۔ مجھے کہیں آنے جانے کی اجازت نہیں تھی۔ بیشتر وقت والد صاحب کے فیضِ صحبت میں گزرتا تھا جس سے میں نے بہت کچھ حاصل کیا اور آج میں جو کچھ ہوں انہیں کا علمی،قلمی اور روحانی تصرف ہے۔ میرا اصلی نام احمد علی اور تخلص والد کے تخلص برقؔ کی مناسبت سے برقیؔ اعظمی ہے۔ والد صاحب کے فیضِ صحبت کی وجہ سے شعری اور ادبی ذوق کی نشوو نما بچپن میں ہو گئی تھی جو بفضلِ خدا اب تک جاری و ساری ہے۔ والد صاحب کے ساتھ مقامی طرحی نشستوں میں با قاعدگی سے شریک ہوتا رہتا تھا۔ اس وجہ سے تقریباً ۱۵؍سال کی عمر سے طبع آزمائی کرنے لگا۔ ادبی ذوق کا نقطۂ آغاز والدِ محترم کا فیضِ صحبت رہا اور میں نے جو کچھ بھی حاصل کیا انھیں کا فیضانِ نظر اور روحانی تصرف ہے۔ اصنافِ ادب میں غزل میری محبوب ترین صنفِ سخن ہے۔ غزل سے قطع نظر مجھے موضوعاتی نظمیں لکھنے کا ۲۰۰۳ء سے ۲۰۰۹ء تک کافی شوق رہا اور میں نے اس عرصہ میں ماحولیات، سائنس، اور مختلف عالمی دنوں کی مناسبت سے بہت کچھ لکھا جو ۶؍سال تک مسلسل ہر ماہ ایک مقامی میگزین ماہنامہ ’’سائنس‘‘ میں شائع ہوتا رہا اور اتنی نظمیں لکھ ڈالیں کی ایک مستقل شعری مجموعہ ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ مجھے ’’یادِ رفتگاں ‘‘ سے خاصی دلچسپی ہے چنانچہ میں بیشتر شعرا، ادیبوں اور فنکاروں کے یومِ وفات اور یوم تولد کی مناسبت سے اکثر و بیشتر لکھتا رہتا ہوں۔ اس سلسلے میں نے حضرت امیر خسروؔ، ولیؔ دکنی، میرؔ، غالبؔ، حالیؔ، شبلیؔ، سر سیّد، احمد فرازؔ، فیضؔ، پروینؔ شاکر، ناصر کاظمیؔ، مظفرؔ وارثی، شہریارؔ، بابائے اُردو مولوی عبدالحق، ابن انشا، جگرؔ، شکیلؔ بدایونی، مجروحؔ سلطانپوری، مہدی حسن، صادقین، مقبول فدا حسین وغیرہ پر بہت سی موضوعاتی نظمیں لکھی ہیں جن کا بھی ایک مجموعہ مرتب ہو سکتا ہے۔ میرے والد کا نام رحمت الٰہی اور تخلص برقؔ اعظمی تھا جو نائب رجسٹرار قانون گو کے عہدے پر فائز تھے۔میرے والد ایک صاحب طرز اور قادر الکلام استاد سخن تھے جنہیں جانشینِ داغؔ حضرت نوحؔ ناروی سے شرفِ تلمذ حاصل تھا۔ میرے بچپن کا بیشتر حصہ والد محترم کے سایۂ عاطفت میں گزرا۔ مجھے کہیں آنے جانے کی اجازت نہیں تھی۔ بیشتر وقت والد صاحب کے فیضِ صحبت میں گزرتا تھا جس سے میں نے بہت کچھ حاصل کیا اور آج میں جو کچھ ہوں انہیں کا علمی،قلمی اور روحانی تصرف ہے۔ میرا اصلی نام احمد علی اور تخلص والد کے تخلص برقؔ کی مناسبت سے برقیؔ اعظمی ہے۔ والد صاحب کے فیضِ صحبت کی وجہ سے شعری اور ادبی ذوق کی نشوو نما بچپن میں ہو گئی تھی جو بفضلِ خدا اب تک جاری و ساری ہے۔ والد صاحب کے ساتھ مقامی طرحی نشستوں میں با قاعدگی سے شریک ہوتا رہتا تھا۔ اس وجہ سے تقریباً ۱۵؍سال کی عمر سے طبع آزمائی کرنے لگا۔ ادبی ذوق کا نقطۂ آغاز والدِ محترم کا فیضِ صحبت رہا اور میں نے جو کچھ بھی حاصل کیا انھیں کا فیضانِ نظر اور روحانی تصرف ہے۔ اصنافِ ادب میں  غزل میری محبوب ترین صنفِ سخن ہے۔ غزل سے قطع نظر مجھے موضوعاتی نظمیں لکھنے کا ۲۰۰۳ء سے ۲۰۰۹ء تک کافی شوق رہا اور میں نے اس عرصہ میں ماحولیات، سائنس،  اور مختلف عالمی دنوں کی مناسبت سے بہت کچھ لکھا جو ۶؍سال تک مسلسل ہر ماہ ایک مقامی میگزین ماہنامہ ’’سائنس‘‘ میں شائع ہوتا رہا اور اتنی نظمیں لکھ ڈالیں کی ایک مستقل شعری مجموعہ ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ مجھے ’’یادِ رفتگاں ‘‘ سے خاصی دلچسپی ہے چنانچہ میں بیشتر شعرا، ادیبوں اور فنکاروں کے یومِ وفات اور یوم تولد کی مناسبت سے اکثر و بیشتر لکھتا رہتا ہوں۔ اس سلسلے میں نے حضرت امیر خسروؔ، ولیؔ دکنی، میرؔ، غالبؔ، حالیؔ، شبلیؔ، سر سیّد، احمد فرازؔ، فیضؔ، پروینؔ شاکر، ناصر کاظمیؔ، مظفرؔ وارثی، شہریارؔ، بابائے اُردو مولوی عبدالحق، ابن انشا، جگرؔ، شکیلؔ بدایونی، مجروحؔ سلطانپوری، مہدی حسن، صادقین، مقبول فدا حسین وغیرہ پر بہت سی موضوعاتی نظمیں لکھی ہیں جن کا بھی ایک مجموعہ مرتب ہو سکتا ہے۔ میں عملی طور سے میڈیا سے وابستہ ہوں اور ۱۹۸۳ء سے آل انڈیا ریڈیو کے شعبۂ فارسی سے وابستہ تھا اور بحیثیت انچارج شعبۂ فارسی ۳۳ سال کی خدمات کے بعد ۳۱ دسمبر ۲۰۱۴ کوملازمت سے سبکدوش ہوگیا اور فی الحال عارضی طور پر اسی شعبے سے وابستہ ہو۔
۔
فیضؔ، ساحرؔ، مجروحؔ، جگر، حسرتؔ، فانیؔ، پروین شاکر، اور ناصر کاظمیؔ وغیرہ میرے پسندیدہ شعرا ہیں۔ ادیبوں میں سرسید احمد خاں اور شبلی نعمانی سے بیحد لگاؤ ہے۔ میں اُردو ویب سائٹس اور فیس بک پر بہت فعال ہوں اور فیس بک پر میری
۴۰۰۰ سے زائد غزلیں او ر نظمیں البم کی شکل میں موجود ہیں۔
موجودہ دور میں ادب اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے اور اس کی توسیع اور ترویج کے امکانات روشن ہیں۔معاصرانہ چشمک اور گروہ بندی فروغ زبان و ادب کی راہ میں سدِّ راہ ہیں۔ سود و زیاں سے بے نیاز ہو کر اگر ادبی تخلیق کی جائے اور اس میں خلوص بھی کارفرما ہو تو فروغِ ادب کے امکانات مزید روشن ہو سکتے ہیں۔میں اپنی خوئے بے نیازی کی وجہ سے گوشہ نشین رہ کر اپنے ادبی اور شعری ذوق کی تسکین کے لئے انٹرنیٹ اور دیگر وسائلِ ترسیل و ابلاغ کے وسیلے سے سرگرمِ عمل ہوں۔ میں اُردو کی بیشتر ویب سائٹس اور اور فیس بُک کے بیشمار فورمز سے وابستہ ہوں۔مجھے خوشامدپسندی اور زمانہ سازی نہیں آتی اس لئے مقامی سطح پر غیر معروف ہوں۔
ہوتا زمانہ ساز تو سب جانتے مجھے
کیا خوئے بے نیازی ہے دیوانہ پن مرا
ویب سائٹوں پہ لوگ ہیں خوش فہمی کے شکار
نا آشنائے حال ہیں ہمسائے بھی مرے
عرضِ حال
ہوتے ہیں اُن کے نام پہ برپا مشاعرے
معیار شعر اُن کی بَلا سے گِرے گِرے
جن کا رسوخ ہے انہیں پہچانتے ہیں سب
ہم دیکھتے ہی رہ گئے باہرکھڑے کھڑے
جو ہیں زمانہ ساز وہ ہیں آج کامیاب
اہلِ کمال گوشۂ عزلت میں ہیں پڑے
زندہ تھے جب تو ان کو کوئی پوچھتا نہ تھا
ہر دور میں ملیں گے بہت ایسے سر پھرے
برقیؔ ستم ظریفیِ حالات دیکھئے
اب ان کے نام پر ہیں ادارے بڑے بڑے
جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا، غزل میری محبوب صنف سخن ہے۔ میرے اسلوبِ سخن پر غیر شعوری طور سے غزلِ مسلسل کا رنگ حاوی ہے۔ گویا میری بیشتر غزلوں میں جیسا کہ بعض احباب نے اس کی طرف اشارہ کیا، غزل کے قالب میں نظم یا مثنوی کا گمان ہوتا ہے جو بعض احباب کی نظر میں محبوب اور بعض لوگوں کے خیال میں معیوب ہے۔ میرا شعورِ فکر و فن میرے ضمیر کی آواز ہے۔ میری غزلیں داخلی تجربات و مشاہدات کا وسیلۂ اظہار ہونے کے ساتھ ساتھ بقول جناب ملک زادہ منظور احمد صاحب ’’حدیثِ حسن بھی ہیں اور حکایتِ روزگار بھی‘‘۔ میں جس ماحول کا پروردہ ہوں میری شاعری اس کے نشیب و فراز اور ناہمواریوں اور اخلاقی اقدار کے زوال کی عکاس ہے۔ میں جو کچھ اپنے اِرد گِرد دیکھتا یا محسوس کرتا ہوں اسے موضوعِ سخن بنانا اپنا اخلاقی اور سماجی فریضہ سمجھتا ہوں جس کے نتیجے میں میری بیشتر شعری تخلیقات اجتماعی شعور کی بازگشت کی آئینہ دار ہیں۔ میں کلاسیکی روایات کا پاسدار ہونے کے ساتھ ساتھ جدید عصری میلانات و رجحانات کو بھی موضوع سخن بنانے سے گریز نہیں کرتا۔ حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں بیدار مغز سخنور اور قلمکارجس ذہنی کرب کا احساس کرتے ہیں ان کی تخلیقات میں شعوری یا غیر شعوری طور سے اس کا اظہار ایک فطری اور ناگزیر امر ہے۔ چنانچہ
ہیں مرے اشعار عصری کرب کے آئینہ دار
قلبِ مضطر ہے مرا سوزِ دروں سے بیقرار
آپ پر ہوں گے اثر انداز جو بے اختیار
میری غزلوں میں ملیں گے شعر ایسے بیشمار
صفحۂ قرطاس پر کرتا ہوں اس کو منتقل
داستانِ زندگی ہے میری برقیؔ دلفگار
اُردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت ہمارا قومی،ملی اور اخلاقی فریضہ ہے۔اس ضمن میں مقامی اور علاقائی سطح پر ہمارے شاعروں، ادیبوں اور اربابِ فکر و نظر کی علمی و ادبی خدمات کی افادیت اپنی جگہ مسلم ہے۔لیکن اُردو زبان و ادب کے بین الاقوامی سطح پر فروغ میں معیاری اُردو ویب سائٹوں کے کارہائے نمایاں حلقۂ اربابِ فکر و نظر میں جنہیں انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب ہے، اظہر من الشمس ہیں۔
خاکسار کو سب سے پہلے انٹرنیٹ کی دُنیا میں متعارف کرانے میں جناب ستپال بھاٹیا کی ہندی ویب سائٹ آج کی غزل ڈاٹ بلاگ اسپاٹ ڈاٹ کام نقشِ اوّل کا درجہ رکھتی ہے۔ اسی سائٹ کی فہرست میں مجھے محترم سرور عالم راز سرورؔ صاحب اور اُن کا نامِ نامی، ان کا معیاری کلام اور اُن کی سائٹ کا لنک نظر آیا اور اس طرح میں اُن کی شہرۂ آفاق ویب سائٹ ’’ اُردو انجمن ڈاٹ کام‘‘ سے باقاعدہ روشناس ہوا اور مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی تامل نہیں ہے کہ میری انٹرنیٹ کی دُنیا میں باقاعدہ طور پر رسائی اور اربابِ فکرو نظر سے شناسائی کا نقطۂ آغاز ’’اُردو انجمن ڈاٹ کام‘‘ ہے۔ سرور عالم راز سرورؔ صاحب کا تبحرِ زبان و بیان اُن کی اصلاحِ سخن سے ظاہر ہے جس کا کوئی جواب نہیں اور جو میرے لئے مشعلِ راہ ہے اور رہے گی۔
اُردو انجمن کے بعد مجھ سے ناظمِ ’’ اُردو جہاں ‘‘ محترمہ سارا جبین صاحبہ نے رجوع کیا اور یہ میرا دوسرا میدانِ عمل تھا، ہے اور انشا ء اللہ ہمیشہ رہے گا۔میری غزلوں کا صوری و معنوی حُسن و جمال اُن کی مخلصانہ،دلکش اور سحر انگیز تزئین اور نقاشی کا مرہونِ منت ہے۔ اُن کے اِس بارِ احساں سے میں کبھی سبکدوش نہیں ہو سکتا۔
میرا تیسرا پڑاؤ ’’اُردو بندھن ڈاٹ کام‘‘ رہا جہاں میں محترم سالم احمد باشوار صاحب کی شفقت سے بہرہ مند ہوا، جنھوں نے میری حوصلہ افزائی کے لئے از راہِ لطف میری با ضابطہ ویب سائٹ بنا دی اور مستقل طور سے بے لوث دستبردِ زمانہ سے اُس کی نگہداشت فرما رہے ہیں۔ خدائے بزرگ و برتر اُنھیں اس کا اجرِ عظیم عطا فرمائے۔
’’اُردو دُنیا ڈاٹ نیٹ‘‘ میں میں محترم مظفر احمد مظفرؔ صاحب سے بہت متاثر ہوں جنھوں نے میری غیر معمولی تشویق اور حوصلہ افزائی فرمائی اور ہمیشہ حوصلہ افزا منثور اور منظوم اظہارِ خیال سے نوازتے رہے۔’’ دستک‘‘ کے بارہویں شمارے میں خاکسار کے فکر و فن پر اُن کا مبسوط تبصرہ اُن کی شفقت و محبت کا آئینہ دار ہے۔
مجھے بیرونِ ملک حلقۂ اربابِ فکر و نظر میں متعارف کرانے میں محترم حسن چشتی صاحب مقیمِ شکاگو، اُن کے رفیقِ دیرینہ انور خواجہ اور ہفت روزہ ’’اُردو لنک‘‘ کا نہایت اہم رول رہا ہے۔ میری لوحِ دل پر ثبت ان کی شفقت کے نقوش لازوال ہیں۔ اُن کی وساطت سے میں محترم سردار علی صاحب مقیمِ ٹورانٹو،کناڈا اور اُن کی عالمگیر شہرت کی حامل ’’شعر و سخن ڈاٹ کام‘‘جو اب شعرو سخن ڈاٹ نیٹ سے موسوم ہے، سے روشناس ہوا جو مجھے مستقل اپنی شفقت سے نوازتے رہتے ہیں۔
محترم اعجاز عبید صاحب کی نوازشوں کے لئے بھی میں ان کا صمیمِ قلب سے سپاس گزار ہوں جنھوں نے حال ہی میں از راہِ لطف ’’برقی شعاعیں ‘‘ کے نام سے میری کچھ موضوعاتی نظموں کو، جو میرا خصوصی دائرۂ کار ہے، برقی کتاب کی شکل میں زیورِ طبع سے آراستہ کیا ہے۔ خدائے بزرگ و برتر ان کی ادبی و علمی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔
جب میں نے فیس بُک سے رجوع کیا تو مجھے پتہ چلا کہ شیدائیانِ اُردو کس طرح یہاں بھی اُردو کے فروغ میں بقدرِ ظرف اپنے فکر و فن کے جوہر دکھا رہے ہیں اور یہاں بھی شمعِ اُردو اپنی آب و تاب کے ساتھ ضو فگن ہے۔ فیس بُک کی وساطت سے میں ’’اُردو منزل‘‘، صغیر احمد جعفری صاحب اور اُردو کے فروغ میں اُن کی گراں قدر خدمات سے روشناس ہوا اور یہاں موجود احباب اور اُن کے دل پذیر کلام سے مستفید ہونے کا شرف حاصل ہو رہا ہے۔ فیس بُک پر موجود مختلف ادبی گروہوں، خصوصاً اُردو لٹریری فورم الف، انحراف، بزمِ امکان، اُردو شاعری، محبت، گلکاریاں اور دیا گروپ کی ہفتہ وار فی البدیہہ طرحی نشستوں میں طبع آزمائی نے بھی میرے شعور فکر و فن کو جلا بخشی جس کے لئے ان کا بھی ممنون ہوں۔ میرے محترم دوست مسلم سلیم، جو اپنے
۲۲؍ بلاگس اور ویب سائٹس کے وسیلے سے اُردو زبان و ادب کی غیر معمولی خدمت انجام دے رہے ہیں، کی برقیؔ نوازی بھی میرے رخشِ قلم کے لئے مہمیز کا درجہ رکھتی ہے جن کی پیہم نوازشوں کے لئے صمیم قلب سے سپاس گزار ہوں اور اُن کے بارِ احساں سے کبھی سبکدوش نہیں ہو سکتا۔
حال ہی میں شہرۂ آفاق ادبی انجمن ادارۂ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری، ہانگ کانگ سے متعارف ہوا جس کی خدمات جہانِ اردو میں سزاور تحسین ہیں۔ اس انجمن کے جوانسال ناظم اور ان کے دست راست جناب امین جس پوری اور دیگر رفقائے کار کی برقی نوازیاں بھی میرے رخشِ قلم کی مہمیز ہیں ۔آج کل میں اس انجمن کے زیر اہتمام ہفتہ وار منفرد پروگراموں میں شریک بزم ہوتا رہتا ہوں۔اس انجمن نے مجھے خواجہ الطاف حسین حالی ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا جس کے لئے میں اس کا صمیمِ قلب سے سپاسگزار ہوں۔اب یہ انجمن آئندہ
۲۸ جولائی کو ایک تنقیدی پروگرام بعنوانِ’’ ایک عالمی شام چار شعرا کے نام محبی سید ایاز مفتی ساکن ہوسٹن ٹکساس کے زیر صدارت منعقد کر رہی ہے جس میں خاکسار کےساتھ تین اور شعرائے ذی وقار محترمہ مینا نقوی،(بھارت)، محترم امین اڈیرائی ( پاکستان) اور محترم مسعود حساس ( کویت) شامل ہیں ، جنہیں اس اعزاز کے کے لئے دلی مبارکباد ہیش کرتا ہوں۔
نمونہ کلام
غزل ۔
۱
احمد علی برقی اعظمی
سیاست میں ریاکاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے
اداکاری و عیاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے
ہے اُس کی بدگمانی ایک ذہنی کرب کا باعث
مسلسل اک دل آزاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے
نہیں پُرسانِ حال ایسے میں کوئی غم کے ماروں کا
غریبی اور لاچاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے
نکلنا گھر سے باہر ہوگیا دشوار لوگوں کا
ہر اک گھر میں عزاداری جو آگے تھی سو اب بھی ہے
ہیں اپنی دسترس سے دور آٹا ، دال اور سبزی
بہت مشکل خریداری جوآگے تھی سو اب بھی ہے
نظر کے سامنے ہیں ہر طرف کنکریٹ کے جنگل
شجر کاری میں دشواری جو آگے تھی سو اب بھی ہے
بغیر اس کے کوئی بھی کام ہونا غیر ممکن ہے
وہی رشوت کی بیماری جو آگے تھی سو اب بھی
سکونِ قلب عنقا ہوگیا ہے دن میں بھی برقی
’’ وہی راتوں کی بیداری جو آگے تھی سو اب بھی ہے ‘‘
غزل۔۲
مجھ کو بس اس کی رضا درکار ہے
’’ فکر اسباب وفا درکار ہے‘‘
جس میں شامل شربتِ دیدار ہو
دردِ دل کی وہ دوا درکار ہے
ہو تعصب کا نہ جس میں شائبہ
بادۂ مہرووفا درکار ہے
جسم پر بھی جس کا ہو مثبت اثر
روح کی ایسی غذا درکار ہے
روح پرور جس کا ہو ہر زیر و بم
وہ سرودِ جانفزا درکار ہے
ہر طرح کی ہوکثافت سے جو پاک
مجھ کو وہ آب و ہوا درکار ہے
مجھ کو خوئے بے نیازی ہے عزیز
اور اس کو التجا درکار ہے
مِل سکے جس سے اسے ذہنی سکوں
مجھ کو وہ تیرِ قضا درکار ہے
چاہے جو بھی دے بجز ہجر و فراق
مجھ کو اس کی ہر سزا درکار ہے
ہر ادا سے اس کی مجھ کو پیار ہے
ہو روا یا نا روا درکار ہے
کر نہیں سکتا سرِ تسلیم خم
اس کو عرضِ مدعا درکار ہے
جو ولیٔ دکنی کے فن میں تھی
مجھ کو وہ حسنِ ادا درکار ہے
ہر حسیں کے حسن کا زیور ہے جو
مجھ کو وہ شرم و حیا درکار ہے
وہ جو میرا حاشیہ بردار تھا
پوچھتا ہے مجھ سے کیا ادرکار ہے
جیسی تھی اقبال کی بانگِ درا
مجھ کو ایسی ہی نوا درکار ہے
ہو جو اسرارِ ازل سے آشنا
ایک ایسا رہنما درکار ہے
افضل الاشغال ہے برقی یہ فعل
خدمتِ خلقِ خدا درکار ہے
غزل۔۳
احمد علی برقی اعظمی
آپ کا حسن عمل حسن بیاں تک پہنچے
دل میں جو بات نہاں ہے وہ زباں تک پہنچے
آئئے ایسی فضا امن کی ہموار کریں
حسنِ نیت جو یہاں ہے وہ وہاں تک پہنچے
دوستی جب بھی کریں جذبۂ اخلاص کے ساتھ
کہیں ایسا نہ ہو وہ سود و زیاں تک پہنچے
دل میں روشن کریں وہ شمعِ محبت جس کی
روشنی ایسی ہو دونوں کے مکاں تک پہنچے
دشمنی شعلۂ نفرت کو ہوادیتی ہے
کہیں ایسا نہ ہو وہ آہ و فغاں تل پہنچے
اس سے بچنے کی تدابیر کو رکھیں ملحوظ
اس سے پہلے کہ کوئی تیر کماں تک پہنچے
ہے مشن میرا فقط ’’ امن کی آشا ‘‘ برقیؔ
’’ میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے ‘‘
غزل ۔۴
تھے جتنے یار چُپ سادے ہوئے ہیں
سبھی عیار چُپ سادے ہوئے ہیں
جو تھے سردار چُپ سادھے ہوئے ہیں
پسِ دیوار چُپ سادھے ہوئے ہیں
ہر اک جانب بپا ہے ایک محشر
مگر اخبار چُپ سادھے ہوئے ہیں
امیر شہر اب تک سورہا ہے
جو ہیں بیدار چُپ سادھے ہوئے ہیں
نہ جانے کیوں سبھی وحشت زدہ ہیں
’’ در و دیوار چُپ سادھے ہوئے ہیں ‘‘
مسیحائے زماں بے دست و پا ہے
ہیں جو بیمار چُپ سادھے ہوئے ہیں
سبھی حالات کے مارے ہیں خاموش
جو ہیں بیزار چُپ سادھے ہوئے ہیں
اثاثہ لے کے کچھ اپنے وطن کا
سمندر پار چُپ سادھے ہوئے ہیں
بقولِ خود جو تھے شہہ زور اب وہ
نحیف و زار چُپ سادھے ہوئے ہیں
جنھیں خود سے بھی اپنی جاں ہے پیاری
سرِ بازار چُپ سادھے ہوئے ہیں
وہ کہتے ہیں کہ یہ ہے اُن کی جاگیر
جو تھے معمار چُپ سادھے ہوئے ہیں
سمجھتے تھے جنھیں ہم اپنا رہبر
بصد پندار چُپ سادھے ہوئے ہیں
تھے جتنے زندہ دل برقی ، وہ ہوکر
ذلیل و خوار چُپ سادھے ہوئے ہیں
غزل۔۵
کیوں کریں شکوہ کسی سے اپنی ہم تقدیر کا
صاف جب اپنے لئے ہے راستہ تدبیر کا
اب بھروسہ اُٹھ گیا ہے عدل کی زنجیر کا
کیوں بناتے ہیں ہدف وہ مجھ کو ہی تعزیر کا
شیریں و فرہاد کا قصہ پرانا ہوگیا
ذکر پھر بھی آج تک باقی ہے جوئے شیر کا
ایسے عاشق عہدِ حاضر میں ملیں گے خال خال
عاشقِ شیدا تھا رانجھا جس طرح سے ہیر کا
دیکھ کر جس کو بظاہر دے رہے ہیں داد سب
دوسرا رُخ میں سمجھتا ہوں اسے تصویر کا
مِٹ گئے دنیا سے جانے کتنے ہی فرعونِ وقت
وہ سمجھ جائے گا مطلب آہ کی تاثیر کا
رخ ہوا کا ایک یہ جانب نہیں رہتا سدا
مڑ نہ جائے اس کی جانب یہ نشانہ تیر کا
میرؔ کا سوزِ دروں غالبؔ کا حسنِ فکر و فن
نام ہے اردو غزل کی خوشنما تفسیر کا
منحصر ہے جس پہ برقی کی کتابِ زندگی
منتظر ہوں میں ابھی اُس خواب کی تعبیر کا
ادارۂ عالمی بیسٹ اردو پوٗئیٹری اور اس کی ادبی سرگرمیوں کا ترجمان عامی ماہنامہ آسمان ادب : ایک تعارف
ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی ، نئی دہلی
عہد حاضر جدید وسائل ترسیل و ابلاغ کا دور ہے جس میں فاصلۂ قُرب و بعد اب کوئی مسئلہ نہیں ہے۔شوشل میڈیا اقوام عالم سے رابطۂ بقائے باہمی، تبادلہ فکر و نظر اور افہام و تفہیم کا ایک مؤثر ذریعہ ہے جسے بروئے کار لاتے ہوئے سیاست سے قطع نظر بہت سی علمی ، ادبی اور ثقافتی محافل اور انجمنیں فیس بک، واٹس ایپ اور مختلف ویب سائٹوں پر ترویج شعرو ادب میں سرگرم عمل ہیں ، انھیں میں سے ادارۂ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری بھی ایک ہے جس کی منفرد ادبی و ثقافتی سرگرمیاں عالمی سطح پر زبانزد خاص و عام ہیں ۔ اس شہرۂ آفاق ادبی گروپ کی ہفتہ وار بزم آرائیوں کی رپورٹس نہ صرف مختلف ویب سایٹوں پر شایع ہوتی ہیں بلکہ اس ادارے کے ترجمان عالمی ماہنامۂ آسمان ادب میں زیورِ طبع سے آراستہ ہوکر شائقین شعرو ادب سے خراج تحسین حاصل کررہی ہیں ۔ یہ اپنی نوعیت کا ایک ایسا معیاری اور دیدہ زیب برقی رسالہ ہے جو اس ادارے کے جوانسال چیئرمین توصیف ترنل اور ان کے دست راست مدیر امین جس پوری کے ذوق سلیم اور حسن انتخاب و ادارت کا آئینہ دار ہے۔
اس ادارے کی ہفتہ وار ادبی نشستوں کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس میں پیش کی جانے والی تخلیقات پر ناقدین شعر و ادب نشست کے دوران ہی بصیرت افروز اظہار نظر کرتے ہوئے فکری و فنی معائب و محاسن کی نشاندہی اور تحلیل و تجزیہ کرتے ہیں اور بہترین تخلیق پرسندِ توصیف بھی عطا کی جاتی ہے جو شعور فکر کو جلا بخشتی ہے۔اس ادبی تحریک کو کامیاب بنانےمیں تمام احباب اور شرکای محفل کا حسن عمل باعثِ تحسین و ستایش ہے جس کے لئے میں سب کو پرخلوص مبارکباد ہیش کرتا ہوں۔
ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری 
کی جانب سے پیش کرتے ہیں
تنقید کی اجازت ہے
نام مسعود احمد تخلص حساس ھے اسلیے احباب مسعود حساس کے نام سے جانتے ہیں
کبیر داس کی جائے پیدائش سے تقریبا گیارہ کلو میٹر شمال میں واقع پرساد پور نامی دیہات میں پیدا ہوا علاقہ چونکہ ستانوے فیصد مسلم ھے تو مدارس عربیہ کا جال بچھا ہونے کی بناء پر بچے اسی جانب رخ کرتے ہیں جو عموما درجہ پانچ پاس کرکے کسی ہنر کی تلاش میں ممبئ دہلی لکھنؤ کی جانب سفر کرجاتے ہیں ایک دو فیصد درس نظامی کی تکمیل بھی کر جاتے ہیں انہیں میں سے ایک میں بھی ہوں ترانوے کے اخیر میں گریجویشن کرنے کے بعد ممبئ اجمل پرفیومس میں ملازمت کی اور تین سال بعد دبئ کی راہ ناپی جو ایک عرب نزاد شخص کی مرہون منت تھا
شوروم انچارج کی یہ ملازمت دو سے تین سال پہ محیط رہی شرکاء میں اختلاف نے کمپنی کو ڈبو دیا اور میں الحرمین گروپ آف کمپنیز میں ٹرانسفر ہو گیا
جہاں سن دو تک شوروم انچارج کی حیثیت سے رہا یہ الگ بات کہ ازاں بعد مارکیٹنگ منیجر کی حیثیت سے کویت منتقل کردیا گیا اور پھر
۲۰۰۸ میں کچھ اپنا کرنے کی دُھن نے ملازمت سے گلو خلاصی اختیار کرکے ایک چھوٹی سی کمپنی کی بنیاد ڈالی اور اسی کے تحت پرفیوم رو مٹیریل کی سپلائ کرنے لگا 
طبعِ موزوں کی بنیاد پہ دس گیارہ سال کی عمر سے ہی شعر کہنا شروع کردیا تھا یہ الگ بات قواعد کی عدم جانکاری کی وجہ سے بہت سے اشعار بلا ردیف تھے جبکہ کم و بیش ساٹھ غزلیں قواعد پہ پوری اترتی تھیں تعجب خیز بات یہ ھے کہ وہ بحر میں بھی تھیں
تقریبا
۲۰۰۵ میں کویت کے شعراء سے ملاقات ہوئ اور پھر وہاں سے شعری سفر کا باقاعدہ آغاز ہوا جو سنجیدہ و مزاحیہ متوازی رہا یہ الگ بات کہ سنجیدگی نے مزاح پہ غلبہ حاصل کیا اور نو سال کی مشق کے بعد سنجیدہ کلام پہ مشتمل دیوان شائع کیا 
جسے علی گڑھ سے علی شامسی اور لکھنؤ سے نسیم اختر اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا ازاں بعد کویت میں خلیج کے اولین دیوان کا خطاب بھی دیا گیا
چکر میں تیرے آکے بہل جاؤں کیا کروں 
اے چاک تیری ضد پہ بدل جاؤں کیا کروں
ساری حدوں کو توڑ دیا اس نے طیش میں 
اب دائرے سے میں بھی نکل جاؤں کیا کروں
.
اک اوّلین ٹھیس نے چوما ابھی قدم
آگے بڑھوں جھکوں کہ سنبھل جاؤں کیا کروں
.
شمعہ تھی میرے سر میں لگائ گئ ہے آگ 
چیخوں مروں خموش پگھل جاؤں کیا کروں
.
صحرا کی ریت مل کے تھکن سے کہا اری
مٹھی میں ہوں رکوں کہ پھسل جاؤں کیا کروں
.
حیراں ہوں منہ میں لقمئہ مشکوک کے سبب
تھوکوں چباؤں یا کہ نگل جاؤں کیا کروں
.
مل کر گلے ہوا ہے مرا دل شرارتی
اب دل کے ساتھ میں بھی مچل جاؤں کیا کروں
++++++++++++++++++++++++
ٹپک نہ پائ مگر شخصیت بھگو گئ تھی 
وہ ایک بوند تھی جو قلب و روح دھو گئ تھی
.
خطا معاف مرا حرف حرف سورج تھا
تمہاری انکھ ہی کچھ دیر تم سے کھو گئ تھی
.
اسے صلیب پہ جانے کا اشتیاق نہیں
ہماری ذات پکاری گئ تھی تو گئ تھی
.
یہ پھر سے آپ نکالے ہیں کیوں وہی موضوع
ہماری آپ کی اس پر بھی بات ہو گئ تھی
.
جو باتوں باتوں میں اک بات آپ کہہ گئے تھے
وہی تو بات تھی محفل میں آگ بو گئ تھی
.
یہ ایسی قوم ہے جس کا عمل خدا بخشے
محاذِ جنگ پہ سجدے میں جا کے سو گئ تھی
.
++++++++++++++++++++++++
.
اک سیلِ معانی کا کوزے میں ٹھہر جانا
آساں نہیں غزلوں کا کاغذ پہ اتر جانا
.
دستور غزل کا ہے جذبات کی عکاسی
الفاظ کی ہیئت میں تصویر ابھر جانا
.
اک شاعرِ مطلق کو ہے لمحئہ فکریہ
ہونٹوں سے ادا ہوتے اشعار کا مرجانا
.
دیں اہلِ خرد فتوی ماتم کا محل یہ ھے
اک خواب گزیدہ کے سپنوں کا بکھر جانا
.
کہنے کو تو آساں ہے پر کام ہے مشکل تر
مقتل کے سجانے کو بے خوف و خطر جانا
.
ھے امرِ یقینی یہ معراج ھے وحشت کی
جذبوں کے طلاطم سے لفظوں کا سنور جانا
.
کج فہم کو سمجھانا عاقل اسے کہتے ہیں
الفاظ کے سینے میں خنجر کا اتر جانا
.
*****************************
******* ہمسایہ ******
میں اپنی ذات کی بارہ دری کے آنچل میں
اگر چہ قید میں ہوں اک طویل مدت سے
مگر فتین نگاہوں کا حسنِ ظن یہ ھے
مرا وجود ھے پارہ صفت عجب ہیئت
ہزار دام بھی اس کے لیے کھلونا ہیں
مرے خیال کے قالب کو چاند کی بڑھیا
خموش لب سے یہ پیغام دے کے گزری ہے
اگر چہ شمس کی ہم روشنی پہ قائم ہیں
مگر فصیل تو اب تک بنائے رکھی ھے
طلوعِ شمس کی جادوگری جبلّت ہے
زوالِ شمس میں اک آگہی حقیقت ہے
مجھے یقین ھے قدرت کی ذاتِ اقدس پر
تکلفات کے وادی کی برف پگھلے گی
گلال دہر میں اک بار پھر سے بکھرے گا
مسعود حسّاس
+++++++++++++++++++++++
*******انکشاف ******
غرابِ وقت کے ابرو کی نوکِ ارائش 
عجیب فلسفہ حکمِ امیر سے چسپاں
زمین خون سے رنگین چار سو وحشت
افق میں دور کہیں حسرتوں کے مرقد پر
اداس گرد میں لپٹی ہوئ ھے قوسِ قزح
فسانِ کرب و بلا کے گہہِ طلاطم پہ
بھرم کے قتل کا محتاط شاہدِ عینی
عجائبات کی رنگین چھتریاں لے کر
گلالِ شوق سے خائف ھے اک حقیقت ہے
سنور کے آئ ہے ناگن دلِ اداس کے پاس
خلوص کاغذی دل کی زمین خالی ھے
سجائ عقل پہ ایسی دھنوں کی رعنائ
کہ سطحِ اب پہ مرغابیوں کے جھنڈ کے جھنڈ
رواں ہیں چار سو منھج کی لا شعوری میں
سوال اج بھی اپنی جگہ پہ قائم ہے
سکوتِ جھیل پہ کنکر یہ کس نے پھینکا ھے
کہ سطحِ آب پہ گولائیوں کی تحریریں
مہیب راز لیے ہونٹ پہ ھویدا ہیں
مسعود حسّاس
ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کی عالمی شام کے لیے 
برائے تنقید کلام پیش ہے
*امین اڈیرائی تین زبانوں کا شاعر و کہانیکار*
جناب امین اڈیرائی کا تعلق سندھ ،پاکستان کے ایک چھوٹے سے قصبے اڈیرولال سٹیشن سے ہے جہاں 5 نومبر 1964ع کو ان کا جنم ہوا.
انہوں نے زمانۂ طالبِ علمی سے شعر کہنا شروع کیا پہلا شعر اردو میں کہا اور باقاعدہ طور پر 1982 میں شاعری کا آغاز سندھی زبان سے کیا ان کی پہلی کتاب 1984 میں شائع ہوئی 1997 سے باقاعدہ طور پر اردو میں لکھنا شروع کیا اور 2003 میں پہلا اردو شعری مجموعہ ” ہاتھوں پہ سورج” کے نام سے منصۂ شہود پر نمودار ہوا ۔ جسے ملک بھر کے سنجیدہ ادبی حلقوں میں بہت سراہا گیا انہوں نے 2010 میں پنجابی زبان میں بھی لکھنا شروع کیا اور 2013 میں پہلا پنجابی شعری مجموعہ ” دل دا کاسہ ” کے نام سے شائع ہوا اب تک ان کی شاعری اور کہانیوں کی کل 13 کتابیں شائع ہوچکی ہیں جبکہ پنجابی مختصر کہانیوں کی کتاب زیر طبع اور آج کل ان کا قلم آپ بیتی لکھنے کی طرف مائل ہے. انہوں سندھی میں کئی کُتب مرتب بھی کی ہیں انہیں کئی ایوارڈ بھی مل چکے ہیں آپ درس و تدریس سے وابسطہ ہیں ان کی شاعری اور افسانہ نگاری کا اپنا ایک جداگانہ انداز ہے جس میں اپنی مٹی کی مہک نمایاں ہے…!!
*غزل*
درون _ ذات تیقن کی انتہا کو دیکھ 
جنون_ عشق اگر ہے تو کربلا کو دیکھ
ہٹا کے چہرے سےاپنے ملوکیت کا غلاف
کسی غریب کی آنکھوں میں التجاکودیکھ
سنا ہے روز بدلتا ہے آئنوں کا مزاج
اسیر _ حسن ذرا خوئے دلربا کو دیکھ
لپٹ رہی ہے کڑی دھوپ بستیء جاں سے 
مکین_ دشت بچھڑتی ہوئی گھٹا کو دیکھ
کبھی تو قصر_ انا سے نکل کے آ باہر
صدائے سوز بھی سن کاسہءگدا کو دیکھ
وجود_ خاک سراپا ہے ارتعاش امین 
لبوں کی تار سےالجھی ہوئی دعا کو دیکھ
*+ غزل +*
اس نے جو غم کیے حوالے تھے
ہم نے تا عمر وہ سنبھالے تھے
صحن_دل میں تمہارےسب وعدے 
میں نے بچوں کی طرح پالے تھے
آنکھ سے خود بہ خود نکل آئے
اشک ہم نے کہاں نکالے تھے
اک خوشی ایسے مسکرائی تھی
درد جیسے بچھڑنے والے تھے
اپنے ہاتھوں سے جو بنائے بت
اپنے ہاتھوں سے توڑ ڈالے تھے
چار سو وحشتوں کا ڈیرا تھا 
جان کے ہر کسی کو لالے تھے
اجنبی بن کےجو ملے تھے امین 
لوگ سب میرےدیکھےبھالےتھے
*غزل*
قیس کا نقش_ پا ملا تھا مجھے 
تب کہیں راستہ ملا تھا مجھے
تیری بس ایک مسکراہٹ سے 
کس قدر حوصلا ملا تھا مجھے
اس نےپہناتھاخواب_شب کالباس
عمر کا رت جگا ملا تھا مجھے
کیا چِھڑے بانسری کے سُر, دل کا
شہر جلتا ہوا ملا تھا مجھے
میں اسے پیچھے چھوڑ آیا تھا 
پھربھی وہ جا بہ جا ملاتھا مجھے
جانے وہ کون تھا جو رستے میں
بن کے اک رہنما ملا تھا مجھے
دور تک ڈھونڈ کر تھکا جو امین 
پاس اپنے خدا ملا تھا مجھے
*غزل*
رکھ دیا میں نے در_حسن پہ ہارا ہوا عشق
آج کے بعد مری جان تمہارا ہوا عشق
چوٹ گہری تھی مگر پاؤں نہیں رک پاۓ
ہم پلٹ آ
ۓ وہیں ہم کو دوباره ہوا عشق
جھلملاتا ہے مری آنکھ میں آنسو بن کر
آ گیا راس مجھے دل میں اتارا ہوا عشق
سکہء وقت بدلتے ہی سبھی چھوڑ گئے
ذات کے شہر میں اک عمر سہارا ہوا عشق
جب بھی ہوتی ہے در_خواب پہ دستک کوئی
جاگ جاتا ہے ترے ہجر کا مارا ہوا عشق
میری پلکوں سے ٹپکتا ہے لہو بن کے امین
تیری گلیوں میں شب و روز گذارا ہوا عشق
*غزل*
سایہء وصل میں آؤنگا چلا جاؤنگا
ہجر کی دھوپ اٹھاؤنگا چلا جاؤنگا
مسکراتاہے مری ذات میں رکھاہوادکھ 
آج اسے خوب رلاؤنگا چلا جاؤنگا
چشم_احساس میں کچھ پھول دعاکےلیکر
مرقد_جاں پہ چڑھاؤنگا چلا جاؤنگا
دل کےشمشان میں اک روزتری یادوں کی
سب چتاؤں کوجلاؤنگا چلا جاؤنگا
تنگیءدامن_دل پوچھ نہ مجھ سےمرےغم!
ایک ہی اشک بہاؤنگا چلا جاؤنگا
بس ذرا دیر ادھر آؤ محلے والو!
آخری ہاتھ ملاؤنگا چلا جاؤنگا
سورہاہےجومری ذات کےحجرےمیں امین 
اس قلندر کو جگاؤنگا چلا جاؤنگا
*امین اوڈیرائی
اوڈیرولال سندھ پاکستان
اب کچھ ادارے کے بارے میں*
ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری سے میں ڈھائی تین سال سے جڑا ہوا اس ادارے نے مجھے ایک چھوٹے سے قصبے سے نکال کر پوری دنیا میں متعارف کروایا ہے اور یہاں سے میں نے شعر کہنے اور مصرع سازی کا فن سیکھا ہے مسعود حساس اور شفاعت فہیم صاحبان جیسے نقادوں کا ملنا میرے لیے ایک بہت بڑی بات ہے اور سب سے زیادہ یہ بات کہ بھائی توصیف ترنل کے پسندیدہ شاعروں میں مجھ ناچیز کا نام بھی شامل ہے سیکھنے والوں کے لیے یہ ادارہ ایک اسکول سے کم نہیں میں بھائی توصیف ترنل کی محنت کو سلام پیش کرتا ہوں. مالک سائیں آپ سب کو سلامت رکھے آمین
امین اڈیرائی 
اڈیرولال اسٹیشن ضلع مٹیاری سندھ پاکستان
ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری
کے پروگرام 163. کے لئے 5 غزلیں اور تعارف
28 جولائی 2018
تنقید کی اجازت ہے
1…
غزل
بلندیوں کا تھا جو مسافر ؛ وہ پستیوں سے گزر رہا ہے
کہ جیسے دن کا سلگتا سورج ؛ سمندروں میں اتر رہا ہے
تمہاری یادوں کے پھول ایسے ؛ سحر کو آواز دے رہے ہیں
کہ جیسے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ؛ مری گلی سے گزر رہا ہے
الگ ہیں نظریں’ا لگ نظارے؛ عجب ہیں راز و نیاز سارے
کسی کے جذبے مچل رہے ہیں ؛ کسی کا احساس مر رہا ہے
عجیب جوشِ جنوں ہے اس کا: عجیب طرزِ وفا ہے میرا
میں لمحہ لمحہ سمٹ رہی ہوں؛ وہ ریزہ ریزہ بکھر رہا ہے
نظر میں رنگین شامیانے؛ محبتوں کے نئے فسانے
یہ کون ہے دل کے وسوسوں میں؛ جو مجھ کو بے چین کر رہا ہے
تمام الفاظ مٹ چکے ہیں : بس ایک صفحہ ابھی ھے باقی
اسے مسلسل میں پڑھ رہی ہوں؛ جو نقش دل پر ابھر رہا ہے
وہ میرے اشکوں کے آئینے میں؛ سجا ہے “مینا” کچھ اس ادا سے
کہ جیسے شبنم کے قطرے قطرے میں؛ کوئ سورج سنور رہا ہے
2…..
غزل
یہ مت سمجھنا فقیر ہوں میں
انا کے حق میں کثیر ہوں میں
مجھے ستارہ سمجھنے والوں
فلک پہ بدرِ منیر ہوں میں
ہے منصفی میرے دم سے قائم
عدالتوں کی مشیر ہوں میں
ہے مجھ میں زنجیر چاہتوں کی 
محبتوں کی اسیر ہوں میں
حقیقتیں مجھ میں خیمہ زن ہیں
صداقتوں کی سفیر ہوں میں
کہاں گئٰ عشق کی وہ شدّت
نہ تو وہ رانجھا نہ ہیر ہوں میں
مثال میری نہیی ملے گی
کہ آپ اپنی نظیر ہوں میں
سجا ہے شعروں میں درد ” مینا
غزل کے لحجے کی میر ہوں میں
3….
غزل
رت میں ہے کیسی سرگم
آنکھیں ہیں پرنم پرنم
آندھی نے کیا ظلم کیا 
شاخیں کرتی ہیں ماتم
تیرا میرا کیا رشتہ 
جیے سورج اور شبنم
وقت نے ایسی لی کروٹ
میں’ بدلا مِیں جذبۂ ‘ہم
اس کے آنے کی امید
شمع کی لو مدھم مدھم
دستک آہٹ کچھ بھی نہیں 
پھر بھی ایک گماں پیہم
پاکیزہ دونوں مذہب 
اک گنگا جل اک زم زم
مینا” فرقت روگ ہوئی
دید تمہاری پے مرہم
4……
غزل
سرد سرد موسم میں بھیگتے اندھیرے میں زندگی گزرتی ہے
شکل ایک مبہم سی,آیئنے میں آنکھوں کے چپکے سے سنورتی ہے
عمر کٹ گئی ساری. یونہی دشت و صحرا میں ,اک تلاشِ ہیہم میں .
جانے کس لئے پھر بھی, راستوں پہ , لاحاصل جستجو ٹھہرتی ہے
حبس کی ہواؤں میں, یوں تو سارے منظر پر ایک ہو کا عام ہے
پھر بھی ایک خوشبو سی, ذہن و دل کے گلشن سے روح میں اترتی ہے
عمر بھر کی تنہائی, لمحہ بھر کی قربت کو بھول ہی نہیں پائی
انتظار کیوں جانے اب بھی اس کے آنے کا زندگانی کرتی ہے
جیسے کوئی پاگل ہو,روح اک بھٹکتی ہے جسم و جاں کے جنگل میں
روز شام ڈھلتے ہی , اس خموش وادی میں اک صدا ابھرتی ہے
6….
غزل
۔یوں تو کچھ بھی نہیں عیاں مجھ میں
ہے مگر کہکشاں نہاں مجھ میں
ربط رکھتے ہوئے زمین کے ساتھ
جذب سارا ہے آسماں مجھ میں
پھول غنچے ہیں ہمنوا میرے
خوشبووں کا ہے کارواں مجھ میں
عمر لکھتے گزر گئی لیکن
نامکمل ہے داستاں مجھ میں
فاختاوں کا دل بسیرا ہے
رقص کرتی ہیں ہرنیاں مجھ میں
کون روتا ہے میری آنکھوں سے
کون لڑکی ہے شادماں مجھ میں
نثر گوشہ نشین مجھ میں ہے
شاعری بھی رواں دواں مجھ میں
میرے لب پر تو مسکراہٹ ہے
کون لیتا ہے سسکیاں مجھ میں
آپ ہی جان لیجئیے” مینا
غم جو رہتا ہے بے کراں مجھ میں
______________________
تعارف۔۔اردو
نام…ڈاکٹر.منیر زہرا
قلمی نام….مینا نقوی
والد….سید التجا حسین مرحوم
جائے پیدائش….نگینہ ضلع بجنور..یو.پی
تعلیم…ایم ..اے..( ہندی.انگریزی..سنسکرت )
بی .اے. ایم. ایس
مشغلہ…..میڈیکل پریکٹس
تخلیقات…..شعری مجموعہ
1………سائبان…(اردو)
2……..بابان…..(اردو)
.3……درد پت جھڑ کا..(ہندی)
.4…..کرچییاں درد کی ..(اردو)
.5…..کرچیاں درد کی ..(.ہندی)
.6…جاگتی آنکھیں..(.اردو)
7….دھوپ چھاؤں.(.ہندی)
8. منزل
9۔۔۔شفق رنگ
10….آئینہ
کویتائیں۔۔۔گیت۔۔غزلیں اور تدجمے ملک اور بیرونی ملک کے اخبارات و رسائل میں شائع۔
60 کتابوں سے زائد تبصرے۔۔پیش لفظ ۔۔ادبی مقالے وغیرہ
اعزازات۔۔
پریرنا منچ سمان
سرسوتی پریوار سمان
دیشراج سممان ۔
ڈاکٹر کیلاش گرو سمرتی سمان
طوفانی قافلہ کا بہترین شاعرہ سمان
زر سادھنا ہریانہ سمان
شکنتلا پرکاش گپتا کلا منچ اعزاز
ساہتیہ کلا منچ اعزاز
بھلائی وانی کا بہترین غزل کارہ سمان
کیف میموریل سوسائٹی کا بہترین شاعرہ ایوارڈ
بہار اردو اکیڈمی کا رمز عظیم آبادی ایوارڈ
بہار اردو اکیڈمی کا جمیل مِظہری ایوارڈ
بہار اردو اکیڈمی کا فیض احمد ایوارڈ
اتر پردیش اردو اکیڈمی سے ایوارڈ
غالب انسٹیٹیٹوشن اور صنم حفل سے بیسٹ شاعرہ 2018 ایواڈ
سب کتابیں مختلف تنظیموں سے اعزاز یافتہ
*کرچیاں درد کی*۔۔۔اور *جاگتی آنکھیں* اور *منزل* اتر پردیش اردو اکیڈمی اور بہار اردو اکیڈمی سے اعزاز یافتہ
نثر.. نظم..غزلیں …تبصرے…مضامین..مقالے..افسانے …فیچر..لکھنا…ادبی محفلوں میں شرکت.. مشاعروں میں شرکت
ادارہ،عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کے لئے میرے تاثرات
ڈاکٹر مینا نقوی۔۔۔ مراداباد۔۔۔ ۔بھارت
مدتوں سے برقی دنیا میں ہے اک مشہور نام 
جو ادب کا ہےہیں دیوانے اور اردو کے غلام
خدمت اردو ادب کے ہیں نرالے زاویے
اٹھتے رہتے ہیں ہمیشہ دل میں ان کے ولولے
اس طرح رہتے ہیں ہر دم وہ ادارے میں فعال
جانتے ہیں سب انہیں توصیف ترنل خوش خصال
شاعروں کا اور ادیبوں کا ہے یہ اک کارواں 
اور اس ادبی سفینے کے ہیں ترنل پاسباں
ہر سنیچر کو یہاں ریتا ہے میلہ پیار کا
ہیں وسیلہ نظمیں غزلیں نثر اس اظہار کا
بیسٹ اردو شاعری کا ہے یہ ایسا آبشار
شاعروں کو ملتے ہیں توصیف نامے بے شمار
اس میں استادانِ فن بھی اور شاگردان بھی
باتے ہیں اردو کی دنیا میں نئی پہچان بھی
بیسٹ اردو کا یونہی چلتا رہے یہ کارواں 
ہے دعا *مینا* کی ہوں توصیف ترنل جاویداں

Leave a Reply