’’آر زوئے صبح‘‘ : فکر و فن کے آئینے میں : ڈاکٹر محمد معراج الحق برقؔ ذکریا کالونی، سعد پورہ مظفر پور

’’آر زوئے صبح‘‘ : فکر و فن کے آئینے میں
ڈاکٹر محمد معراج الحق برقؔ
ذکریا کالونی، سعد پورہ
مظفر پور
بلاشبہ ایک باغباں کے دل کی کلیاں فرطِ مسرت سے کھل اُٹھتی ہیں، جب وہ اپنے ہاتھوں سے بصد تمنا و آرزو لگائے ہوئے اور خونِ دل سے سینچے ہوئے نرم و نازک نونہال کو ایک سر سبزو شاداب اور تنا ور درخت کی شکل میں مشاہدہ کرتا ہے۔ میں اپنے تلمیذ عزیز اور سعادت مند ولی اللہ ولیؔ کے شعری مجموعہ بعنوان ’’آرزوئے صبح‘‘ کو اسی تناظر میں دیکھتا ہوں اور اس کا خلوص دل سے خیر مقدم کرتا ہوا انھیں مبارک باد اور نیک خواہشات پیش کرتا ہوں :
قائم رہے دائم یہ ترا جہدِ مسلسل
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
رنگیں ہو ترا لوح و قلم خونِ جگر سے
کیوں کر نہ ہو پھر حسنِ رقم اور زیادہ
موصوف اپنے شعری مجموعہ کا آغاز تبرکاً و تیمناً حمدو مناجات سے کرتے ہیں اور بارگاہِ رب العزت میں اپنے نازک احساسات و جذبات کا نذرانہ نہایت خلوص و عاجزی کے ساتھ پیش کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ نعتیہ کلام کے ذریعے دربارِ رسالت میں گلہائے عقیدت نچھاور کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ حمد گوئی یا نعت نگاری ایک مشکل اور نازک صنفِ سخن ہے۔ اس دشوار گزار وادی سے کامیابی کے ساتھ عہد بر آ ہونا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ ایک معمولی سی لغزش اور بے احتیاطی ایمان و عقیدہ کی غارت گری کے لیے کافی ہے۔ عرفیؔ جیسا قادر الکلام اور یکتائے روز گار شاعر بھی اس وادی میں سرنگوں نظر آتے ہیں اور یہ کہے بغیر نہ رہ سکے ؎
عرفیؔ مشتاب این رہِ نعت است نہ صحراست
ہشدار کہ رہ بردمِ تیغ است قدم را
صاحبِ مجموعہ نے حمد گوئی اور نعت نگاری کے سلسلے میں کمال احتیاط سے کام لیا ہے اور اُن مقدس ولا ثانی ہستیوں کے شان و شکوہ، جاہ و جلال اور وقاروتقدس کو مجروح ہونے سے بچالیا ہے۔
موصوف کے ذریعے پیش کردہ سبھی نعتوں میں دینی ماحول اور اسلامی معاشرہ کی جھلک واضح طور پر نظر آتی ہے۔ انھوں نے حمدو نعت گوئی کے سلسلے میں سارے اصول و ضوابط، آداب اور تقاضوں کو پورا کیا ہے۔ یہ نعتیں شاعر کے ذہنی رجحانات اور اسلامی احساسات و جذبات کی نشاندہی کرتی ہیں۔ بطور نمونہ مناجات اور نعتیہ کلام کے چند اشعار ملا خطہ ہوں :
مناجات :
ماسوا اِس کے کیا اے خدا مانگتا ہوں
تجھ سے میں مانگنے کی ادا مانگتا ہوں
کیا کروں، کیا کہوں، کچھ نہیں جانتا ہوں
تجھ سے میں مانگنے کی ادا مانگتا ہوں
جن کے صدقے میں دنیا بنائی گئی ہے
اُن کا صدقہ بروزِ جزا مانگتا ہوں
جس کو قرآں میں واللَّیل تو نے کہا ہے
حشر کی دھوپ میں وہ گھٹا مانگتا ہوں
نعت :
کوئی ایسا منظر نہیں ہے
جو اُن سے مُنّور نہیں ہے
نہیں جس میں سودائے الفت
وہ سر واقعی سر نہیں ہے
نہ بدلے جہاں جا کے قسمت
وہ در آپ کا در نہیں ہے
کرے نقشِ پا ثبت دل پر
یہ سب کا مُقّدر نہیں ہے
شعری مجموعہ میں اخلاقیات اور صوفیانہ عقائد سے متعلق مضامین کثرت سے پیش کیے گئے ہیں جن میں بیش قیمت درسِ حیات اور اصول زندگی پوشیدہ ہیں۔ موصوف نے اخلاقی اور تہذیبی قدروں کو نہایت خوبصورتی سے اُجاگر کیا ہے۔ ہر جگہ فنی حسن اور فکری توانائی کار فرما ہے۔ بطور نمونہ چند اشعار ملاحظہ ہوں :
جو لہو سے ہوں ہمارے روشن
اُن چراغوں کو جلایا جائے
دھن والوں کے پاس ہے دھن اور کچھ بھی نہیں
دھن کے علاوہ سب کچھ دیکھا نر دھن میں
باغِ جنت نہ مجھ کو عدن چاہیے
دوستو مجھ کو خاکِ وطن چاہیے
چشتی و نانک و بدھ کی دھرتی ہے یہ
بس محبت چمن در چمن چاہیے
میری دھرتی کرے ناز جس پر ولیؔ
ایسا تن چاہیے ایسا من چاہیے
صوفیانہ عقائد :
اللہ اللہ یہ اعجازِ چشمِ نبیؐ
اُس نے دیکھا جسے دیدہ ور ہو گیا
کفر ہے مایوس ہونا رحمتوں سے
اے ولیؔ اس کا کرم تو بے کراں ہے
چاہے جتنا ہی پٹک لے سر کوئی
اذنِ حق ہی سے کھلے گا در کوئی
زندگی بھر سامنے دنیا کے میں روتا رہا
اپنے رب کے سامنے اک دن تو روکر دیکھتا
جرأت و بے باکی اور حق گوئی و حق بینی کا شمار فضائلِ حمیدہ میں ہوتا ہے۔ یہی وہ صفات ستودہ ہیں جو جہاد زندگانی میں شمشیر اور انسانیت کے ارتقا اور تحفظ و بقا کے لیے مہمیز کا کام کرتی ہیں۔ بالغ نظر شاعر نے ایک ایسے مرد مجاہد کا تصور پیش کیا ہے جو کارزارِ حیات میں ہمہ دم تیغ و سناں سے نبرد آزما ہے اور نامساعدو حوصلہ شکن حالات میں بھی صبر و قناعت کا دامن نہیں چھوڑتا۔ وہ قنوطیت کو بہ نظرِ استحقار دیکھتا ہے اور رجائیت پسندی اُس کا اصل معیار زندگی ہے۔ وہ جنازہ بردوش قسم کا انسان نہیں، بلکہ نازک ترین اور پیچیدہ ترین حالات میں بھی مسکرانا جانتا ہے۔ چند جُرأت مندانہ اشعار ملاحظہ ہوں :
مجھے کیا روک پائے گی بھلا رستے کی دشواری
مرے پائے تمنا کو ٹھہر جانا نہیں آتا
کوئی آخر مجھے دارو رسن سے کیوں ڈراتا ہے
جنون پیشہ ہوں میں جاؤں گا سوئے دار چٹکی میں
وہ جو رکھتے ہیں منزل پہ اپنی نظر
راہ چلتے نہیں فاصلہ دیکھ کر
موت ہے دراصل پیغامِ حیات
موت سے اہلِ جنوں گھبرائیں کیوں
عشقیہ شاعری :
غزل نگاری موصوف کی محبوب ترین صنف سخن رہی ہے۔ اس میدان میں انھوں نے مہارت تامہ اور کمالِ فن کا جو ہر دکھایا ہے۔ شعری مجموعہ کا زیادہ تر حصہ اسی صنف شاعری پر مشتمل ہے۔
یہ ایک عالمی صداقت اور ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ شاعری کے ابتدائی مرحلے میں ہر شاعر فطری طور پر جمال پرست نظر آتا ہے۔ بنیادی طور پر وہ دلدادۂ حسن ہو یا نہ ہو، شاعری کی وادی میں قدم رکھتے ہی وہ ایک عاشقِ زار کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ چنانچہ افسرؔمیرٹھی کو عصر حاضر کے نوجوان شاعروں پر طنزیہ وار کرتے ہوئے کہنا پڑا:
ہے شاعری میں یہ پہلا اصول موضوعہ
کہ جھوٹ موٹ کے بن جائیں ایک عاشق زار
بلکہ شدتِ نفرت میں انھوں نے یہاں تک کہہ دیا ع
یہ ان کی نور بھری شاعری خدا کی مار
ان کا قول سر اور آنکھوں پر، مگر وہ شاید اس حقیقت سے نظریں چرا رہے ہیں کہ عشق ایک ایسا محور ہے جس کے گرد اخلاق، تصوف اور فکرو فن ہمہ دم محوِ گردش ہیں۔ چنانچہ دنیا کے عظیم صوفی اورفلسفی شاعروں نے شاعری کی ابجد مکتبِ عشق ہی سے حاصل کی۔
موصوف بنیادی طور پر عشقیہ شاعری کے دلدادہ رہے ہیں۔ وہ اس وادی میں ایک عاشق جانباز اور کسی تصوراتی محبوبِ دلنواز و عشوہ طراز کے اسیرِ زلف ہیں۔ انھوں نے اپنی شاعری میں حسن و عشق سے متعلق سارے حرکات و سکنات اور لوازمات و کیفیات مثلاً و صل و فراق شراب و شباب، شوخی، شرارت، بے نیازی، کج ادائی اور بے وفائی و دلرُبائی کو موضوعِ سخن بنایا ہے اور تلخ و شیریں احساسات و جذبات اور تجربات و مشاہدات کی ترجمانی کی ہے۔ حسبِ ذیل اشعار میں حسن و عشق کی کار فرمائیاں ملاحظہ ہوں :
جھیل سی اُن آنکھوں میں، میں ہوں اور زمانہ بھی
دیکھنا یہ ہے تہہ میں کون اب اُترتا ہے
میں اسی پری رو کو دیکھ دیکھ جیتا ہوں
جس کے اک تبسم پر اک جہان مرتا ہے
آپ جلوؤں کو اپنے سمیٹے رہیں
مجھ سے کوئی خطا ہو نہ جائے کہیں
ہر نفس کربِ مسلسل لمحہ لمحہ خوں چکاں
تو نہیں تو زندگی ہے اک متاعِ رائیگاں
خدا جانے ڈھائے گا کیا کیا قیامت
لڑکپن چلا اب شباب آ رہا ہے
محبت میں بجز رسوائیاں کچھ بھی نہیں ملتا
سمجھتا ہوں مگر اس دل کو سمجھانا نہیں آتا
کیا جفا اور کیا وفا اُن کی ولیؔ
ہر ادا ہے دِلفریب و دِلرُبا
جنابِ شیخ یہ مسجد نہیں ہے بزمِ جاناں ہے
یہاں دیوانے آتے ہیں کوئی دانا نہیں آتا
شعری مجموعے میں اس قسم کے سینکڑوں دل کے تاروں کو جھنجھوڑنے والے اشعار دستیاب ہیں۔ ہر جگہ فکری جو لانیت اور فنی لطافت کا منظر ہے الفاظ کا درو بست، صوتی آہنگ، حسنِ ترتیب، غنائیت وموسیقیت نے شانِ دِلرُبائی پیدا کر دی ہے۔ غزل نگاری کے سارے آداب اور تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔
رازِ درونِ میخانہ کو بے نقاب تو کیا ہے مگر عامیانہ پن، سوقیانہ پن، سطحیت اور سستی جذباتیت سے دامن بچانے کی کوششِ بلیغ کی ہے۔ وہ سودائی ہیں لیکن جنس زدگی کے شکار نہیں۔ سنجیدگی و متانت کو بہر حال برقرار رکھا ہے۔ اُن پرنسائیت کا جن سوار نہیں۔ اُن کی دیوانگی میں فرزانگی اور سنبھلی ہوئی کیفیت ہے۔ جب کہ اس حمام میں کیسے کیسے لوگ ننگے نظر آتے ہیں۔
جہاں تک اسلوبِ بیان اور طرزِ نگارش کا تعلق ہے، شاعر نے بہت حد تک روایتی انداز بیان اختیار کیا ہے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ روایت پسند ہیں، روایت پرست نہیں۔ روایتی اندازِ بیان میں بھی صفائی، شستگی اور نیا رنگ و آہنگ کی جھلک ہے جس کی وجہ سے لطف و جاذبیت کی مخصوص فضا پیدا ہو گئی ہے اور انفرادی شان کی نقل و حرکت واضح طور پر نظر آتی ہے۔
ان کی شاعری کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ ما فی الضمیر کو براہِ راست پیش کرنے کے عادی ہیں۔ انھوں نے ایسے ابہام، رمزو کنا یہ اور پیچیدگی سے پرہیز کیا ہے جو افہام و تفہیم میں رکاوٹ پیدا کرے۔ وہ پیش پا افتادہ اور پامال مضامین کو ایسے تخلیقی شعور اور فنی نزاکت کے ساتھ پیش کرتے ہیں کہ ان میں جدّت و تازگی کی فضا پیدا ہو جاتی ہے اور روایت کی قدامت اور کہنگی کا شائبہ بھی دکھائی نہیں دیتا۔ یہی شعریت ہے۔ شاعری کی روح اور حقیقت یعنی شعریت یہ ہے کہ شاعر اپنے احساسات، جذبات اور محسوسات و مشاہدات کو ایسے لطیف اور شائستہ انداز میں پیش کرے کہ سامعین یا قارئین ان کو اسی شدت سے محسوس کریں جیسا کہ شاعر نے محسوس کیا تھا اور انھیں وہی فرحت و مسرت یا رنج و کلفت کا احساس ہو جس سے شاعر گزر چکا ہے۔ بالفاظ دِگر شاعر کے سارے احساسات و جذبات تجسیمی کیفیت اختیار کر کے قلب و جگر پر مجلّٰی ہو اٹھتے ہیں۔ یہی انفرادیت ہے جو نئے نئے اُسلوب اور لب و لہجے کو جنم دیتی ہے اور یہ وہ حد فاصل ہے جو شاعر اور متشاعر کے مابین فرق و امتیاز قائم کرتی ہے۔ اس امر کے حصول کے لیے شاعر کو ایسے جامع، موضوع، فعال اور ناطق الفاظ کی ضرورت پڑتی ہے جو شاعر کے تلخ و شیریں احساسات، جذبات اور تجربات و مشاہدات سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور ایسے حسنِ ترتیب سے مُزیّن و آراستہ ہو جاتے ہوں کہ موسیقیت اور معنویت کی ایک حسین فضا قائم ہو جائے۔ ایک فطری اور وہبی شاعر کے ذہنی تارو پود اس قدر متحرک و حسَّاس اور غیر معمولی قوت متخیلہ اور مدرکہ کے حامل ہوتے ہیں کہ اسے تخلیقی عمل کے دوران الفاظ کے ترک و اخذ اور حذف و اضافے کی صلیب سے گزرنا نہیں پڑتا۔ وہ الفاظ صفحۂ قرطاس پر آنے سے پہلے ہی شاعر کی ذہنی سطح پر خود بخود شعری پیکر میں ڈھل جاتے ہیں۔
زیر بحث شعری مجموعے میں متعدد ایسے اشعار نظر آتے ہیں جن میں فطری بہاؤ، تسلسل و روانی اور زیر و بم کی کیفیت بدرجہ اتم موجود ہے۔ تکلمانہ شان اور مخصوص جوشِ بیان نے عجیب اثر و جاذبیت پیدا کر دی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کوئی آبشار بلندی سے گرتی پڑتی، اُچھلتی کودتی، بل کھاتی، بپھرتی اور اٹکھیلیاں کرتی اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے۔ بطور نمونہ تلاطم خیز یاں ملاحظہ ہوں :
پھول ہے یا شیشہ ہے یا کوئی پتھر دیکھتا
کاش وہ بھی آئینے میں اپنا پیکر دیکھتا
چاند ہے یا چاندنی ہے پھول ہے یا رنگ ہے
کاش اس پیکر کو میں ہاتھوں سے چھوکر دیکھتا
یہ بھی اچھّا ہی ہوا، مجھ کو نہ نیند آئی کبھی
ورنہ خوابوں میں بھی میں سوکھا سمندر دیکھتا
سوزِ دل سے آشنا ہوتی تری ہستی ولیؔ
اپنے دل کے داغ کو اشکوں سے دھوکر دیکھتا
اس شعری مجموعے میں دو مختصر فارسی تخلیقات بھی نظر آتی ہیں۔ ایک پابند اور دوسری آزاد بعنوان ’’باغباں ‘‘ہے۔ فارسی غزل میں شاعر نے مروجہ عشقیہ خیالات اور درد و غم سے بھرے جذبات کی ترجمانی نہایت سادہ سلیس اور سہل انداز میں کی ہے۔ ان میں حسرت ویاس اور زندگی سے بیزاری کی جھلک نمایاں طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔ نمونہ کے چند اشعار پیش ہیں :
درد دارم لیک درمانی ندارم
بر درِدلِ ھیچ دربانی ندارم
مدتی در آرزوی التفاتش
حق بگویم جز پشیمانی ندارم
کی برآید حرفِ شکوہ بر لبِ من
عاشقم عشقِ نمایانی ندارم
نظم ’’باغبان‘‘ میں شاعر ایک سر سبز تنا ور درخت سے سوال کرتا ہے کہ کیا اُسے دنیا سے رخصت ہو جانے والے باغبان کی یاد آتی ہے جس نے اس کی آبیاری کی تھی۔ وہ درخت بہ زبانِ حال جواب دیتا ہے کہ ہاں ! جب کوئی تھکا ماندہ مسافر اس کے نیچے آرام کرنے کے لیے بیٹھ جاتا ہے اور اس کے پھل اور پھول سے متمتع ہوتا ہے تو باغباں کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ یعنی جب تک اس میں تازگی ہے باغباں کی یاد بھی تازہ رہے گی۔ اشعار ملاحظہ ہوں :
یادش تازہ ترمی گردد
وقتی کسی درسایۂ من می آید
گل و ثمر را زشاخہایم می گیر د
یادش می آید آن پیر مردی
موصوف نے اس شعری مجموعے میں فکرو فلسفہ، عصری رجحان، سماجی شعور، نفسیاتی حقائق اور تہذیبی قدروں کی پیش کش کر کے تنوع پسندی کا ثبوت دیا ہے۔ بالفاظ دیگر یہ مجموعہ جلوۂ صد رنگ ہے جو ادب شناسوں کو اپنی جانب متوجہ ہونے پر مجبور کرتا ہے۔
واضح رہے کہ موصوف درس و تدریس سے نہیں بلکہ آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی میں محکمۂ نشریات سے منسلک ہیں۔ یہ اُن کا غیر معمولی علمی شغف اور شعر و ادب سے فطری وابستگی ہے جس نے انھیں پرورشِ لوح و قلم کرنے پر مجبور کر رکھا ہے اور یہ مجموعہ موصوف کے ادبی سفر کا پہلا پڑاؤ ہے۔ ابھی شعری تجربات کے بہت سے مراحل طے کرنے باقی ہیں۔ اس پہلے مجموعہ میں دستیاب فکری توانائی اور فن کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم بلا تردد کہہ سکتے ہیں کہ ان کا جہدِ مسلسل بارگاہِ شعر و ادب میں باریابی کے لیے ضامن کی حیثیت رکھتا ہے۔
ان تفصیلات کے پیش نظر ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ موصوف اپنے ہم عصروں میں منفرد و ممتاز اور صفِ اوّل کے شاعر ہیں۔ دعا ہے کہ شعر و ادب کے طویل سفر کی صعوبتوں اور پُر خار راہوں کی پروا کیے بغیر وہ سدا رواں دواں رہیں۔
زفرق تا بقدم ہرکُجا کہ می نگرم
کرشمہ دامنِ دل می کشد کہ جا انیجاست
٭٭٭
Top of Form
Bottom of Form

Leave a Reply